رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی اخبارات سے: اسرائیل و فسلطین کے درمیان سمجھوتا ممکن؟


امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریق بنیادی اصولوں یعنی مزید مذاکرات کے دائرہ ِ کار پر متّفق ہو جاتے ہیں تو یہ ایک اہم قدم ہوگا۔

کیا اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین کسی دیر پا سمجھوتے کا وقت آ گیا ہے؟ نیو یارک ٹائمز ایک اداریئے میں کہتا ہے کہ دونوں فریق امریکی ثالثی میں چند ایسے اصولوں پر کام کرتے آئے ہیں جو ایک حتمی امن سمجھوتے کے مذاکرات کے لئے بنیاد فراہم کرتے ہیں اور اگلے ماہ کے اواخر تک اغلب یہی ہے کہ دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ آیا اس میں اُنہیں کامیابی ہوئی ہے یا نہیں۔

اگر دونوں فریق بنیادی اصولوں یعنی مزید مذاکرات کے دائرہ ِ کار پر متّفق ہو جاتے ہیں تو یہ ایک اہم قدم ہوگا۔ لیکن اس کے بعد اس سے بھی زیادہ دُشوار مرحلہ آتا ہے یعنی ان اصولوں کو ایک ایسے حتمی سمجھوتے میں بدلنا جس میں اسرائیل کے برابر ایک فلسطینی مملکت کو تسلیم کیا جائے گا۔

اخبار کہتا ہے کہ وزیر ِخارجہ جان کیری جن اصولوں پر محنت کر رہے ہیں اُنہیں عموماً امریکی منصوبے تصورکیا جاتا ہے۔ لیکن اُنہیں امریکہ کی طرف سے تھوپے گئے ناممکن مطالبات کی بجائے ممکن الحصول مقاصد کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ یعنی دونوں فریقوں کا بڑے بڑے امور پر کیا موقّف ہے۔ اور ایک حتمی سمجھوتے میں ان کا کن امور پر اتفاق ِرائے ہو سکتا ہے؟ لیکن اخبار کہتا ہے کہ اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ انہیں قبول کیا جائے گا کیونکہ دونوں طرف شدید سیاسی دباؤ موجود ہے، خاص طور پر اسرائیل کے اندر۔

اخبار کہتا ہے کہ بعض تفصیلات صیغہء راز سے باہر آگئی ہیں اور خیال ہے کہ اس دائرہ ِ کار میں 1967ء کے طے شُدہ خطوط پر مغربی کنارے سے اسرائیل کی مرحلہ وار واپسی، سٹریٹیجک اعتبار سے وادی ِ اُردن میں سیکیورٹی کےغیر معمولی انتظامات کے ساتھ ساتھ یہ مطالبہ متوقع ہے کہ نہ صرف اس جنگ بلکہ تمام دعاوی کا خاتمہ ہو۔ اس کے تحت اسرائیل مخصوص نئی یہودی بستیوں کے بلاک اپنے پاس رکھے گا جس کے عوض فلسطینیوں کو اسرائیلی علاقے سے زمین منتقل کی جائے گی۔ اخبار کی اطلاع کے مطابق ایک خصوصی امریکی سفیر یہودی لیڈروں کو بتا چُکا ہے کہ اسّی فیصد یہودی آباد کار اسرئیل میں ضم کردیئے جائیں گے۔ اخبار کہتا ہے کہ بعض اہم امور نسبتاً کم واضح ہیں۔ خاص طور پر یروشلم کا مستقبل۔

نیو یارک ٹائمز کہتا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عبّاس اُسے بتا چکے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے تحت اسرائیلی فوجی پانچ سال کی مدّت تک مغربی کنارے پر تعینات رہ سکتے ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ مسٹر عبّاس نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ فلسطینی ریاست میں فوج نہیں ہوگی بلکہ صرف پولیس ہوگی اور اُنہوں نے نیٹو کو دعوت دی کہ وہ ایک فورس غیر معیّنہ مدّت کے لئے وہاں تعینات کرے۔ اخبار نے مسٹر عبّاس کے اس عہد کو ایک مثبت علامت قرار دیا ہے کہ اُنہیں سیکیورٹی کے بارے میں اسرائیل کی تشویش کا اندازہ ہے اور یہ کہ وہ اُسے دور کرنے کے لئے تیار ہیں اور امریکی عہدہ داروں نے بھی سرحد پر ڈرون طیارے فراہم کرنے اور سنسر نصب کرنے کی بات کی ہے۔

سوچی میں سرمائی اولمپکس مقابلوں کی حفاظت کے لئے رُوس نےغیر معمولی انتظامات کئے ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کہتا ہے کہ اس کام کے لئے چالیس ہزارحفاظتی اہل کار تعیّنات کئے گئے ہیں جو لوگوں کے تھیلوں کو چیک کرتے ہیں، پانی کی بوتلوں تک کا معائینہ کرتے ہیں، ریلوے سٹیشنوں کا گشت کرتے ہیں، اولمپک کھیلوں کو حفاظت فراہم کرتے ہیں، یہ غیر معمولی انتظامات دسمبر میں والگا گراڈ ریلوے سٹیشن پرخود کُش بم دہماکوں کے بعد کئے گئے ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ جدید اولمپک کھیلوں کی حفاظت کے لئےکبھی بھی اس سے زیادہ وسیع پیمانے کی حفاظت کا انتظام نہیں کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود آپ کو خال ہی کوئی کلاشنکوف نظر آئے گی۔ رُوسی سیکیورٹی عہدہ داروں کی بالالتزام یہ کوشش ہے کہ لوگوں کا گرم جوشانہ استقبال ہو۔ سیکیورٹی کے اہل کار فوج، پولیس اور دوسرے اداروں سے لئے گئے ہیں۔ جو جامنی رنگ کی پتلونیں، ایتھلیٹوں کی جیکیٹیں اور سوچی 2014 کا لوگو پہنے ہوتے ہیں۔ اخبار کہتا ہے کہ رُوسی سیکیورٹی فورسز نے سوچی شہر کے گرد بقول عہدہ داروں کے ایک فولادی گھیرہ بنا لیا ہے، جن لوگوں نے کھیل دیکھنے کے ٹکٹ خریدے، اُنہیں اپنے پاسپورٹ کی تفصیلات اوراپنی ایک فوٹو فراہم کرنی پڑیں اور انہیں اپنے فوٹو والے بیجوں کو ہر چیک پوئینٹ پر سکین کرانا پڑتا ہے جس کے بعد وہ اولمپک پارک میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اخبار نے سیکیورٹی کے ایک روسی عہدہ دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ پورے شہر میں جو حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اُن میں کمیونی کیشن کے آلات اور ڈرون طیاروں کا استعمال شامل ہے اور ان سڑکوں اور ریل کی پٹڑی پر جو بحرِ اسود پر واقع اس اولمپک پارک سے کھیلوں کے کھلے آسمان تلے مقابلوں کے لئے سکی انگ کے مقامات کی طرف جاتی ہیں جگہ جگہ دیکھ بھال کے کیمرے لگے ہوئے ہیں اور تعاقب کرنے والی فوجی کشتیاں موجود ہیں۔

شکاگو ٹربیون کی رپورٹ ہے کہ چینی حُکّام نے ڈانگ گوان کے شہر میں عصمت فروشی کے ایک بڑے اڈّے پر چھاپا مارا ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ 1949 میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد ملک میں عصمت فروشی کو ممنوع قرار دیا گیا تھا لیکن پچھلے تیس برسوں میں تاریخی اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ اس پیشے نے پھر زور پکڑا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایچ آئی وی ایڈز جیسی بیماریاں بھی بہت پھیلی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ حکومت وقتًا فوقتاً اس قسم کے چھاپے مارتی رہتی ہے لیکن اب کی بار سرکاری ذرائع ابلاغ پر اس کی غیر معمولی تشہیر کی گئی ہے جس میں اس پیشے کے پھیلاؤ پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG