رسائی کے لنکس

logo-print

کرسمس کےدن دہشت گردانہ کوشش میں القاعدہ کا ہاتھ تھا: اوباما


ایسا دکھائى دیتا ہے کہ اُس مشتبہ شخص کو یمن میں القاعدہ کے ایک اتحادی گروپ نے تربیت دی تھی، اُسے دھماکا خیز اشیافراہم کی تھیں، اور اُسے امریکہ جانے والے طیارے پر حملہ کرنے کی ہدایت کی تھی

امریکی صدر براک اوباما نے پہلی بار برسرِ عام اُس شخص کو القاعدہ سے وابستہ قرار دیا ہے ، جس نے 25 دسمبر کو کرسمس کے دن امریکہ جانے والے ایک مسافر طیارے کو دھماکے سے تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
مسٹر اوباما نے ریڈیو اور انٹر نیٹ پر اپنی ہفتہ وار تقریر میں کہا ہے کہ ایسا دکھائى دیتا ہے کہ اُس مشتبہ شخص کو یمن میں القاعدہ کے ایک اتحادی گروپ نے تربیت دی تھی، اُسے دھماکا خیز اشیافراہم کی تھیں، اور اُسے امریکہ جانے والے طیارے پر حملہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ یہ گروپ 2008 میں یمن میں امریکی سفارت خانے میں ایک امریکی کو ہلاک کرنے سمیت، اس سے پہلے بھی امریکی ہدفوں پر حملے کرچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت القاعدہ پر ضرب لگانے کے لیے یمن کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مستحکم کررہی ہیں۔
مسٹر اوباما کی تقریر کو ہفتے کے روز صبح سویرے وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر پوسٹ کردیا گیا تھا۔
حزب ِاختلاف میں ری پبلکن پارٹی کے ارکان صدر پر یہ کہتے ہوئے نکتہ چینی کرتے رہے ہیں کہ وہ جنگجوؤں اور دہشت گردوں کے خلاف کافی سخت اقدامات نہیں کررہے ہیں۔ لیکن صدر کا کہنا ہے کہ عراق میں جنگ ختم کرنے اور افغانستان میں فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لیے اُن کی انتظامیہ کے اقدامات ، دہشت گردوں کی کارروائیوں میں خلل ڈالنے، اُن کے تنظیمی ڈھانچوں کو منہدم کرنے اور انجام کار القاعدہ اور اُس کے اتحادیوں کو شکست دینے کے لیے اُن کی حکمت عملی کا حصّہ ہیں۔
مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ انہوں نے ہوائى اڈوں پر مسافروں کی سکریننگ کے ضابطہ کار اور دہشت گردوں کی نگرانی کے نظام پر جس نظرِ ثانی کا حکم دیا تھا، اُس کے ابتدائى نتائج اُنہیں موصول ہوگئے ہیں اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں مکمل نتائج موصول ہوجائیں گے۔

XS
SM
MD
LG