رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی فوجی ڈرمر قتل کیس، ملزم ہسپتال سے فارغ


میٹرو پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق،''22 مئی کوڈرمر لی رگبی کے قتل کے شبے میں گرفتار ہونے والا ملزم مائیکل ادیبوالے کو ہسپتال سے فارغ ہونے پر جنوبی لندن کی ایک جیل میں قید کر دیا گیا ہے۔''

پچیس سالہ برطانوی فوجی ڈرمر لی رگبی کے بہیمانہ قتل کے ایک ملزم 22 مائیکل ادیبوالے کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہےجس کے بعد لندن میٹرو پولیٹن نے اسے حراست میں لے لیا ہے۔ مائیکل ادیبوالے کو پولیس نے موقع واردات پر گولی مار کر زخمی حالت میں گرفتار کر لیا تھا۔
مشرقی لندن کے علاقے وولچ میں گذشتہ بدھ کو پیش آنے والے ایک واقعہ میں فوجی بیرکوں کے نزدیک ڈرمر لی رگبی پر چاقو کے پہ در پہ کئی وار کئے گئے تھے جس سے ان کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی تھی ڈرمر رگبی شادی شدہ تھے اور دو سالہ بچے کے والد تھے۔
اس واردات کی ایک ویڈیو کلپ میں 28 سالہ ملزم مائیکل ادیبولا کو کہتے ہوئے دکھائی دیا گیا ہے کہ انھوں نے افغانستان اور عراق میں ہلاک ہونے والے مسلمانوں کے بدلے کے طور پر برطانوی فوجی کی جان لی ہے۔
اس واقعہ کے کچھ دیر بعدمیٹرو پولیٹن پولیس نےموقع واردات پر ہی اٹھائیس سالہ مائیکل ادیبولا اور بائیس سالہ مائیکل ادیبوالے کو گولی مار کر زخمی حالت میں گرفتار کرلیاتھا۔
دونوں ملزمان برطانوی شہری ہیں اور انھوں نے کچھ سالوں پہلے اسلام قبول کیا تھا۔

میٹرو پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق،''22 مئی کو ڈرمر لی رگبی کے قتل کے شبے میں گرفتار ہونے والا ملزم مائیکل ادیبوالے کو ہسپتال سے فارغ ہونے پر جنوبی لندن کی ایک جیل میں قید کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس اسٹیشن لانے کے بعد اس پر ایک پولیس آفیسر کے اوپر گولی چلانے کے الزام میں بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔"
بتایا گیا ہے کہ ادیبوالے کو عدالت میں پیش کرنے سے قبل میٹرو پولیٹن پولیس کے انسداد دہشت گردی کی جانب سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG