رسائی کے لنکس

logo-print

یمن نے شیعہ باغیوں کی فائر بندی کی پیش کش ردّ کردی


یمن نے کہا ہے کہ اُس نے شیعہ باغیوں کی جانب سے فائر بندی کی ایک پیش کش کو رد کردیا ہے اور اپنی فوجی کارروائی کو جاری رکھتے ہوئے کم سے کم 20 جنگجوؤں کو ہلاک کردیا۔

یمن کی حکومت نے اتوار کے روز کہا ہے کہ اُس کی فوجیوں شمالی صوبوں ملاحدہ اور سعدہ میں باغیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔اُس نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں باغیوں کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔

اس لڑائى سے ایک دن پہلے شمالی یمن میں باغیوں کے لیڈر عبدالملک الحوثی نے کہا تھا کہ وہ لڑائى ختم کرنا چاہتے ہیں اور یہ کہ فائر بندی کے لیے حکومت نے پچھلے سال جو پانچ شرائط پیش کی تھیں، وہ اُنہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم اتوار کے روز صنعہ میں حکومت کے ایک عہدے دار نے یہ کہتے ہوئے حوثی کی پیش کش کو ٹھکرا دیا کہ اُس نے ایک پیشگی شرط کے طور پر حکومت کی کارروائیوں کو روک دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

عہدے داروں نے یہ بھی کہا ہے کہ حوثی نے حکومت کی ایک چھٹی شرط کو قبول نہیں کیا ہے اور وہ یہ کہ باغی ہمسایہ ملک سعودی عرب کے خلاف اپنے حملے ختم کردیں۔

حکومت نے ستمبر میں باغیوں کو اس شرط کے ساتھ کسی مستقل فائر بندی کی پیش کش کی تھی کہ وہ علاقے سے پیچھے ہٹ جائیں، حملے کرنا بند کردیں اور مقامی حکومت کے معاملات میں مداخلت کرنا چھوڑ دیں۔حکومت نے ہوسکتا ہے کہ چھٹی شرط کا اضافہ بعد میں اُس وقت کردیا ہو ،جب باغیوں نے نومبر میں سعودی فوجوں پر حملے شروع کیے تھے۔

زیدی فرقےسےتعلق رکھنےوالےشیعہ لوگ، حکومت پریہ الزام عائد کرتےہوئے کہ اُس نے اُنہیں اُن کے شہری، اقتصادی اور مذہبی حقوق سے محروم کر رکھا ہے، 2004 سے حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔



XS
SM
MD
LG