پاکستان کے امریکہ میں نئی حکومت کے ساتھ تعلقات اور افغان امن عمل میں اس کے کردار کے بارے میں دیکھیے واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان سے وائس آف امریکہ کے محمد عاطف سے گفتگو۔
بھارتی وزیرِ اعظم نے کستان کے ساتھ خوش گوار تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لیے تشدد اور دہشت گردی سے پاک ماحول بھی ضروری ہے۔ پاکستان کا یہ مؤقف ہے کہ بھارت زیرِ انتظام کشمیر میں عائد پابندیاں ختم کر کے اس کی خود مختار حیثیت بحال کرنا ہو گی۔
آنند سروپ شکلا نے ضلع بَلیا کے مجسٹریٹ کے نام ایک خط میں تحریر کیا ہے کہ پورے دن اذان ہوتی رہتی ہے جس کے نتیجے میں یوگا، پوجا اور دفتری امور میں خلل ہوتا ہے۔
مودی نے اس خط میں لکھا ہے کہ پڑوسی ملک کی حیثیت سے بھارت پاکستان کے عوام کے ساتھ قریبی تعلقات کا خواہش مند ہے۔ البتہ دونوں ملکوں کے لیے دہشت گردی و دشمنی سے پاک اعتماد کی فضا ضروری ہے۔
اسد عمر نےبتایا کہ پاکستان نے چین سے سائنو فارم اور کین سائنو ویکسین کی دس لاکھ ساٹھ ہزار خوراکیں خریدی ہیں، جو مارچ کے اواخر تک پاکستان پہنچ جائیں گی۔
انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس کے سنجیو کافلے اور ریڈ کریسنٹ سوسائیٹی کے بنگلہ دیش کیلئے سربراہ کا کہنا تھا کہ آگ سے 17،000 سے زیادہ گھر راکھ ہو گئے ہیں جب کہ ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
جنوبی ایشیائی تعلقات پر گہری نظررکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور دوسرے ممالک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کے بغیر خطے میں امن قائم کرنا مشکل ہے
بھارتی کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں اور عسکریت پسندوں میں ہونے والی جھڑپوں میں اکثر شہریوں کے گھروں اور دیگر املاک کا نقصان ہوتا ہے۔ متاثرین کا الزام ہے کہ حفاظتی دستے نجی املاک کو جان بوجھ کر نشانہ بناتے ہیں۔ جب کہ سیکیورٹی حکام اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ سرینگر سے زبیر ڈار اور یوسف جمیل کی رپورٹ۔
امریکہ کے وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن کے پاکستان سے تعلقات مضبوط کرنے کے حالیہ بیان پر مبصرین نے کہا ہے کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ افغانستان کے تنازعے کا پُر امن حل کے لیے پاکستان کے کردار کی معترف ہے۔
ملاقات کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایس جے شنکر نے بات چیت کے دوران افغانستان کو ایک متحد، پرامن، عوامی خواہشات کا احترام کرنے والا اور ایک خوشحال جمہوری ملک بنانے کے بھارت کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا۔
ادھر بھارتی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ایک جھڑپ کے دوران تین مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔ جھڑپوں میں ایک بھارتی فوجی کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب طالبان اور امریکہ کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے دوحہ معاہدے کے تحت امریکی اور اتحادی افواج کے یکم مئی تک افغانستان سے انخلا کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔
مزید لوڈ کریں