افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور سینئر رہنما شیر عباس ستنکزئی نے غیر ملکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویوز میں کہا تھا کہ خواتین کو حکومت میں شامل نہیں کیا جا رہا ہے۔ البتہ وہ اسلامی شریعت کے مطابق بعض سرکاری اداروں میں کام کر سکیں گی۔
امریکہ کے محکمۂ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بننے والی حکومت تمام فریقوں پر مشتمل ہونی چاہیے جو دہشت گردی کی روک تھام کے اپنے وعدوں کی پاس داری کرے۔
افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد ملک سے نکلنے میں کامیاب ہونے والے افغان شہریوں میں سے بیشتر اپنے پیاروں کو پیچھے چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ایسے ہی ایک افغان امریکی شہری کو اپنی نئی نویلی دلہن کے بغیر ہی امریکہ آنا پڑا۔ ان کی کہانی دیکھیے اس رپورٹ میں۔
طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد ہزاروں شہریوں کے در بدر ہونے نے ہنگامی صورتِ حال میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پچھلے 20 برسوں کے دوران افغانستان بڑی حد تک بیرون ملک کی سرکاری اور غیر سرکاری امداد سے چلتا رہا ہے لیکن اب امداد میں بڑی کمی سے ملک بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ مزید جانتے ہیں اس رپورٹ میں۔
افغان فوج کی جنرل مزاری امانی ان دنوں فرانس میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ان ساتھیوں کے لیے فکر مند ہیں جو اب بھی افغانستان میں ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے ملک نہیں چھوڑ سکی تھیں۔
قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ہم اس ایئرپورٹ کو جلد از جلد فغال کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔
طالبان رہنما احمد اللہ متقی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ نئی حکومت کے اعلان کے لیے کابل کے صدارتی محل میں تقریب کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
سید گیلانی نے اپنے سیاسی نظریات کی وجہ سے زندگی کا ایک بڑا حصہ جیل میں گزارا۔ بھارت میں ان پر پاکستان کا 'پیڈ ایجنٹ' ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے۔
افغانستان سے امریکی انخلا کو سراہتے ہوئے طالبان نے اسے دوسرے کسی حملہ آور کے لیے ایک سبق قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ خدشہ دور کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ ان کا رویہ ماضی کی طرح سخت ہو گا۔ افغانستان میں عام شہری جنگ کے اختتام پر کیا کہہ رہے ہیں؟ دیکھیے اس ویڈیو میں۔
سید علی گیلانی کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے مرحوم کی میت تحویل میں لے کر اہلِ خانہ کو تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں دی اور اپنے تئیں انہیں سپردِ خاک کیا۔
امریکی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے بعد اگر اس وقت افغانستان کے حالات دیکھے جائیں تو عوام ایک مرتبہ پھر غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ملک میں اس وقت کوئی حکومت قائم نہیں۔ اس 20 سالہ جنگ کے دوران ہونے والے جانی نقصان کا جائزہ دیکھیئے ارم عباسی کی رپورٹ اور ان کی سارہ زمان سے گفتگو میں۔
مزید لوڈ کریں