دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کی نئی اقسام سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقسام پہلے سے موجود وائرس کی نسبت زیادہ مہلک اور خطرناک ہیں۔ وائس آف امریکہ کے نمائندے نوید نسیم نے ماہرین سے پاکستان میں پائے جانے والی اقسام اور ان کے خطرات سے متعلق جاننے کی کوشش کی ہے۔
وائرس کے خلاف لڑنے والے کمزور مدافعتی ردِعمل اور ویکسین کی خوراک لگنے کے بعد بھی وائرس میں مبتلا کرنے والے ویرینٹ (قسم) کے درمیان فرق پہچاننے کے لیے سائنس دانوں کو وائرس کے جینیاتی کوڈ اور اس کی سیکوئنس پڑھنے کی ضرورت ہے۔
دوا ساز کمپنی 'فائزر' کی بنائی گئی کرونا ویکسین کے بچوں کے لیے استعمال کی امریکہ میں اجازت جلد متوقع ہے جس کے بعد یہ ویکسین 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو بھی دی جا سکے گی۔ 'لائف 360' میں صبا شاہ خان سے جانتے ہیں کہ بچے ویکسین کے بارے میں کیا خیالات رکھتے ہیں اور ڈاکٹر اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟
امریکی صدر جو بائیڈن نے عالمی برادری اور اپنی پارٹی کی جانب سے دباؤ کے بعد کرونا وائرس کی ویکسین کو پیٹنٹ سے مستثنی کرنے کی حمایت کی ہے جس سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ مختلف ممالک کرونا ویکسین خود بنا کر اپنی ضرورت پوری کر سکیں گے۔ تفصیلات جانتے ہیں ارم عباسی سے۔
ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) میں پلانٹ گزشتہ ماہ ہی قائم کیا گیا ہے اور اب وہاں ویکسین کی تیاری کے حوالے سے مختلف ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
بلوچستان کے دیہی علاقوں میں بسنے والوں کو علاج کے لیے اکثر کوئٹہ یا دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اب کچھ علاقوں میں حکومت نے ٹیلی ہیلتھ کلینکس قائم کیے ہیں جو صحت کی سہولتیں بہتر کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ مرتضیٰ زہری کی رپورٹ۔
اگر ویکسین کے جملہ حقوق ختم کر دیے جاتے ہیں تو اس کے ویکسین کی دستیابی پر کیا اثرات ہوں گے؟ کیا ویکسین سستے داموں مل سکے گی؟ اور کیا اس سے ویکسین کی پیداوار میں اضافہ ہو سکے گا؟ اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
کرونا کے مریضوں کی علامات کو دیکھتے ہوئے ہی اس بات کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ آیا انہیں روزہ رکھنا چاہیے یا نہیں۔
ایف ڈی اے کی اجازت کے بعد، ویکسین سے متعلق مرکزی حکومت کی مشاورتی کمیٹی اپنے اجلاس میں غور کرے گی کہ کیا اس ویکسین کو 12 سے 15 سال کے بچوں کو لگانے کی سفارش کی جائے؟ اس کے بعد، سنٹر فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن، کمیٹی کی دی گئی سفارش کی منظوری دے گی، تب جا کر ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
پاکستان میں کرونا کیسز میں اضافے کے باعث سخت پابندیاں پھر لاگو کر دی گئی ہیں۔ کیا کرونا وائرس صرف پابندیوں پر عمل درآمد میں کمی کے باعث پھیل رہا ہے یا اس کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں؟ جانتے ہیں متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر بشریٰ جمیل سے وائس آف امریکہ کی صبا شاہ خان کی گفتگو میں۔
پاکستان پیڈیاٹرک کارڈیک سوسائٹی کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 60 ہزار بچے دل کے مرض کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں لیکن سہولتوں کی کمی کے باعث صرف 7 ہزار بچوں کا ہی علاج ہو پاتا ہے۔ ثمن خان ملوا رہی ہیں چائلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن کے بانی فرحان احمد سے جو پاکستان میں بچوں کے دل کا پہلا اسپتال تعمیر کر رہے ہیں۔
وبائی امراض میں آنے والی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے ماہر کرس مری کا کہنا ہے کہ بہت کم مدت میں جس پیمانے پر بھارت میں وبا پھیلی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید بیچ میں ایک اور قسم بھی ہے جو ریکارڈ ہونے سے رہ گئی ہے۔
مزید لوڈ کریں