پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کے پیشِ نظر ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہذٰا کرونا وبا کی تیسری لہر سے نمٹنے کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
برازیل میں ایک موسیقار اسپتال میں وائلن بجا کر طبی عملے اور مریضوں کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب برازیل میں کرونا وائرس سے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور طبی عملہ دباؤ کا شکار ہے۔ یہ نوجوان موسیقی کے ذریعے ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ضلع بڈگام کے ایک اسکول ٹیچر میں بدھ کو وائرس کی تصدیق کے بعد اسکول میں تدریسی عمل معطل کر دیا گیا ہے۔
امریکہ میں طبی ماہرین کی بارہا يقين دہانی کے باوجود کئی سیاہ فام شہری اب بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ويکسين لگوانے ميں یا تو احتیاط کر رہے ہیں یا وہ اسے لگوانا ہی نہیں چاہتے۔ ايسا کيوں ہے؟ جانیے۔
چودہ ملکوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کی ابتدا کے بارے میں عالمی ماہرین کی رائے بہت تاخیر سے سامنے آئی ہے جب کہ ماہرین کو تحقیقات کے لیے ملنے والی مکمل رسائی، اصل ڈیٹا اور سیمپلز پر تحفظات ہیں۔
بھارت میں حکومت کے لیے معیشت کو کرونا بحران سے پہلے کی سطح پر بحال کرنا ایک چیلنج ہے۔ ایک سال پہلے ملک میں سخت لاک ڈاؤن لگا تو لاکھوں مزدوروں کی نقل مکانی کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ اگرچہ اب زیادہ تر مزدور شہروں کو لوٹ آئے ہیں لیکن بہت سے اب بھی روزگار کی تلاش میں ہیں۔
ورچوئل ریئلٹی ٹیکنالوجی کے پاس ابھی ڈیٹا کی کمی ہے مگر اس پر کام کرنے والے ڈیویلپرز اور سافٹ وئیر انجنئیرز عالمی وبا کے دوران اس میں خاص دلچسپی دکھا رہے ہیں۔ نئے صارفین کا دباو بھی بڑھ رہا ہے۔
نیویارک کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے امریکی شہروں میں سے ایک ہے۔ جہاں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عائد پابندیوں نے کئی کاروبار متاثر کیے ہیں۔ سیاحت کے لیے مشہور نیویارک شہر کی سیر کرانے والے ٹوور بس آپریٹرز کس حال میں ہیں؟ دیکھیے آؤنشمن آپٹے کی رپورٹ میں۔
جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ اس وقت وبا کے ساتھ ہماری زندگی اور موت کی دوڑ جاری ہے۔ کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اور کیسز میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں کرونا وبا کے حوالے سے قائم ادارے 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' (این سی او سی) کے مطابق اس وقت پاکستان میں کرونا کے 46 ہزار متحرک کیس ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی وبا سے تقریباً ساڑھے گیارہ کروڑ ملازمتوں کے مواقع غائب ہو گئے ہیں جب کہ 12 کروڑ سے زائد افراد انتہائی غربت کے چنگل میں جا پھنسے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی کرونا پر بںائی گئی مشاورتی ٹیم کے رکن ڈاکٹر فاؤچی کا کہنا ہے کہ بعض ریاستوں نے کرونا پابندیاں اٹھانے میں بہت جلد بازی کی ہے اور کرونا کیسز میں حالیہ اضافہ اسی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
مزید لوڈ کریں