بالی وڈ فلم اسٹار قطرینہ کیف نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کیے گئے پیغام میں بتایا کہ ان کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے جس کے بعد انہوں نے خود کو گھر پر قرنطینہ کر لیا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے سے اسپتالوں پر کتنا دباؤ ہے اور کیا اسلام آباد کے اسپتالوں میں مریضوں کے لیے کیے گئے انتظامات کافی ہیں؟ پاکستان میں کرونا وائرس کی موجودہ صورتِ حال بتا رہی ہیں گیتی آرا انیس۔
بھارت کی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں پیر کو کرونا کے مزید ایک لاکھ تین ہزار 558 کیس رپورٹ ہوئے۔ اس سے قبل صرف امریکہ اور برازیل میں ہی یومیہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرتی رہی ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کمرشل بنیادوں پر ویکسی نیشن کا آغاز کیا گیا ہے جس کے بعد سیکڑوں نوجوان ویکسین لگوانے پہنچ گئے۔
53 سالہ اداکار نے کہا ہے کہ آج صبح ان کا کووڈ-19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ وہ قرنطینہ میں ہیں اور ضروری طبی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
ایسٹرا زینیکا کی ویکسین لگوانے کے بعد گزشتہ ماہ 24 مارچ تک شریانوں میں خون جمنے کے 22 اور پلیٹ لیٹس میں کمی کے آٹھ کیسز سامنے آئے تھے۔
کرونا وبا کی وجہ سے اسرائيل نے سیاحوں پر فضائی پابندياں برقرار رکھنے کا فيصلہ کيا ہے جس کے باعث دنيا بھر سے آنے والے مسيحی زائرين اس سال ايسٹر پر مقدس سر زمين پر واقع تاریخی مقامات کی زیارت نہيں کر پائيں گے۔ مزید دیکھیے اس رپورٹ میں۔
امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اپنے پہلے 100 دنوں میں کرونا ویکسین کی 10 کروڑ خوراکیں لگانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کے پیشِ نظر ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہذٰا کرونا وبا کی تیسری لہر سے نمٹنے کے لیے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
برازیل میں ایک موسیقار اسپتال میں وائلن بجا کر طبی عملے اور مریضوں کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب برازیل میں کرونا وائرس سے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور طبی عملہ دباؤ کا شکار ہے۔ یہ نوجوان موسیقی کے ذریعے ان کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ضلع بڈگام کے ایک اسکول ٹیچر میں بدھ کو وائرس کی تصدیق کے بعد اسکول میں تدریسی عمل معطل کر دیا گیا ہے۔
امریکہ میں طبی ماہرین کی بارہا يقين دہانی کے باوجود کئی سیاہ فام شہری اب بھی کرونا وائرس سے بچاؤ کی ويکسين لگوانے ميں یا تو احتیاط کر رہے ہیں یا وہ اسے لگوانا ہی نہیں چاہتے۔ ايسا کيوں ہے؟ جانیے۔
مزید لوڈ کریں