رسائی کے لنکس

مقامی انتظامیہ نے حساس علاقوں میں پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات کردیے ہیں۔

کراچی میں بدامنی کی لہر بدھ کو بھی برقرار رہی اور فائرنگ کے مختلف واقعات میں مزید 4افراد ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے جبکہ مشتعل افراد کی ہنگامہ آرائی اور جلاوٴ گھیراوٴکے نتیجے میں 4گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

گزشتہ روز لیاقت آباد میں فائرنگ سے جاں بحق والے افراد کی نماز جنازہ بدھ کو ادا کی گئی جس کے بعد اچانک کچھ مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی شروع کرکے 4گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔

نماز جنازہ کے موقع پر علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی لیکن وہ مشتعل افراد پر قابو نہ پاسکی جنہوں نے پہلے ایک بس اور پھر ایک ٹرک کو آگ لگادی۔اسی دوران شہر کے دیگر علاقوں میں بھی 2 گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

اس واقعے کے باعث لیاقت آباد، ملیر جعفر طیارسوسائٹی، رضویہ سوسائٹی اور اورنگی ٹاؤن سمیت شہرکے مختلف علاقوں میں جہاں ایک روز قبل کے واقعہ سے پہلے ہی خوف و ہراس تھا ، مزید کشیدگی پھیل گئی۔

اس دوران مجلس وحدت المسلمین کے راہنما صادق رضا نقوی نے انتظامیہ پر ناقص سیکورٹی انتظامات کا الزام لگاتے ہوئے کہ فائرنگ سے قتل ہونے والے تینوں افراد کی ذمہ داری سیکیورٹی اداروں پرعائد ہوتی ہے۔

دوسری جانب بدھ کو ہی سرجانی تھانے کی حدودمیں واقع لیاری ایکسپریس وے کے قریب فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور2 افراد زخمی ہوگئے۔ منگھو پیر میں بھی فائرنگ سے ایک شخص جان کی بازی ہارگیا۔ اورنگی ٹاون نشان حیدر چوک کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 2 نوجوان لقمہ اجل بن گئے۔

دریں اثناء گلزار ہجری،ڈیفنس اور منگھوپیر روڈ پر بھی فائرنگ کے واقعات ہوئے جس سے مزید تین افراد زخمی ہوگئے۔ انتظامیہ نے حساس علاقوں میں پولیس اور رینجرز کے دستے تعینات کردیے ہیں۔
XS
SM
MD
LG