رسائی کے لنکس

’ہارٹ آف ایشیا‘ استبول میں ہونے والے ایک سربراہ اجلاس کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے عمل کا حصہ ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں ہفتہ کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں افغانستان سے متعلق ’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘ کی تیاریوں پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز، قومی سلامتی کے مشیر لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ ناصر جنجوعہ اور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے بھی شرکت کی۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں علاقائی صورت حال اور قومی سلامتی سے متعلق اُمور پر غور کیا گیا۔

’ہارٹ آف ایشیا‘ استبول میں ہونے والے ایک سربراہ اجلاس کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے عمل کا حصہ ہے۔

اس کانفرنس کا مقصد افغانستان کے ہمسایہ ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے تعاون سے افغانستان میں سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے اور اقتصادی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

افغانستان میں امن کے لیے دو روزہ ’ہارٹ آف ایشیا کانفرنس‘ آئندہ ہفتے آٹھ دسمبر سے اسلام آباد میںہو گی، پاکستان کی طرف سے اس کانفرنس میں شرکت کے لیے افغان صدر اشرف غنی کے علاوہ بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق تو کی جا چکی ہے کہ افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے لیکن صدر اشرف غنی کی آمد کے بارے تاحال باضابطہ طور پر اعلان نہیں کیا گیا۔

اس کانفرنس کے ایجنڈے کے بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیتا رہا ہے۔

"کانفرنس کے ایجنڈے کا مقصد باہمی اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے علاقائی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس کا مقصد دہشت گردی، منشیات فروشی، غربت اور انتہا پسندی کے مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھانا ہے۔"

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سشما سوراج بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے لیکن وزارت خارجہ کے مطابق اس بارے میں بھارت کی طرف سے باضابطہ طور پر تاحال آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔

پروگرام کے مطابق اس کانفرنس کا افتتاح افغان صدر اشرف غنی اور وزیراعظم نواز شریف نے مشترکہ طور پر کرنا ہے لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اُنھیں افغان حکام کی طرف سے اس بارے میں باضابطہ تصدیق کا انتظار ہے۔

پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق کانفرنس کے موقع پر رواں ہفتے ہی پاکستانی وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان ملاقات ہوئی تھی جس میں افغانستان میں امن و سلامتی سے متعلق اُمور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

XS
SM
MD
LG