رسائی کے لنکس

دوحہ: طالبان دفتر کا نیا بورڈ ’افغان طالبان کا سیاسی دفتر‘

  • شہناز نفيس

’افغان طالبان کو یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ وہ افغان حکومت کےساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں‘: افغان امن کونسل کے ایک رکن اور صدر کرزئی کے ایک مشیر اسد اللہ وفا

اطلاعات کے مطابق، افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی حکومت کی جانب سے اعتراض کے بعد، طالبان نے دوحہ دفتر پر لگا ہوا بینر، جِس پر ’اسلامی امارات افغانستان‘ درج تھا، اتار دیا ہے اور اُس کی جگہ ایک نیا بورڈ لگایا گیا ہے جِس پر لکھا ہے: ’افغان طالبان کا سیاسی دفتر‘۔

افغان حکومت کا یہ اعتراض دور ہونے کے بعد اب افغان امن کونسل اور خود کرزئی حکومت کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہوگا، افغان امن کونسل کے ایک رکن اور صدر کرزئی کے ایک مشیر اسد اللہ وفا نےجمعے کو کابل سے ٹیلی فون پر ایک انٹرویو میں کہا کہ افغان طالبان کو یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ وہ افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ ابھی تک طالبان نےباقاعدہ طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ وہ اسلامی امارات افغانستان کی نہیں بلکہ ایک تنظیم کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سےاُنھیں باضابطہ طور پر اِس اعلان کا انتظار ہے جِس کے بعد طالبان کے ساتھ امن بات چیت میں حصہ لینے سے متعلق مشاورت کے بعد اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ افغان حکومت کی خواہش ہے کہ طالبان کے ساتھ بات چیت کی جائے، تاکہ خطے میں امن کا قیام ممکن ہو۔

انٹرویو سننے کے لیے کلک کیجئیے:

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG