رسائی کے لنکس

طالبان سے مصالحت کامیابیوں کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیئے: افغان وزیر


طالبان سے مصالحت کامیابیوں کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیئے: افغان وزیر
طالبان سے مصالحت کامیابیوں کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیئے: افغان وزیر

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئےاُنھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں خواتین کی تعلیم اور اُن کے حقوق کے سلسلے میں خاصی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں

افغانستان کی سلامتی، معیشت، محنت اورسماجی بہبود کی وزیر، آمنہ افضالی نےکہا ہے کہ طالبان کےساتھ کوئی مصالحت افغانستان میں حاصل کی گئی کامیابیوں کی قیمت پرنہیں ہونی چاہیئے۔

جمعے کو مترجم کی مدد سے’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئےاُنھوں نےکہا کہ حالیہ برسوں میں خواتین کی تعلیم اور اُن کے حقوق کے سلسلے میں خاصی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

اُن کے الفاظ میں، ’ہم اِسی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور یہی ہمارا نصب العین ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ امن کا عمل ہماری کامیابیوں کو مزید مضبوط کرے نہ کہ اُنھیں پیچھےکی طرف لے جائے۔‘

آمنہ افضالی کا کہنا تھا کہ جو لوگ بھی امن عمل میں شریک ہوں اُن کے لیے لازم ہے کہ وہ افغانستان آئیں اور معاشرے میں خواتین کے مقام کا احترام کریں۔

افغان وزیر نے بتایا کہ افغانستان میں اعلیٰ امن کونسل میں پانچ اراکین خواتین ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان حکومت خواتین کو امن مذاکرات میں شریک کرنے کی خواہشمند ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ صرف 12فی صد خواتین پڑھی لکھی ہیں۔ اُن سے پوچھا گیا کہ آیا وہ سمجھتی ہیں کہ دیہی علاقوں میں خواتین کی تعلیم کے لیے پیش رفت جاری رکھی جاسکتی ہے تو اُن کا کہنا تھا کہ ہم اِس کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اُن کے الفاظ میں ’افغان حکومت کوشش کر رہی ہے کہ زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کے حقوق سے متعلق آگاہی ہو اور تمام منصوبوں میں تعاون کے لیے عطیات دینے والے ممالک یا خود افغان حکومت رقوم فراہم کرے۔ بالغوں اور خواتین کے لیے تعلیم ایک اہم حصہ ہے۔

آمنہ افضالی نے طالبان دورکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت زندگی مردو زن دونوں کے لیے دشوار تھی اور خواتین سے تو زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا گیا تھا، جب کہ افغان تاریخ سے ظاہر ہے کہ افغان خواتین کو افغان معاشرے میں مکمل نمائندگی حاصل رہی ہے۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG