رسائی کے لنکس

نیروبی میں احتجاجی مظاہروں کی ذمّے داری سے الشّباب کا انکار


الشباب (فائل توٹو)

الشباب (فائل توٹو)

نیروبی میں جمعے کے روز باہر سے آئے ہوئے انتہا پسند عالم عبداللہ الفیصل کی گرفتاری کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئ تھیں

صومالیہ میں جنگجو مذہبی تنظیم الشّباب کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اُس کے گروپ نے جمعے کے روز کینیا میں ایک مسلمان عالم کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو ہوا نہیں دی تھی۔

شیخ علی محمد راگے نے اتوار کے روز نامہ نگاروں سے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرے میں اُن کے گروپ کا ہاتھ نہیں تھا۔ لیکن شیخ نے اُن لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے نیروبی کی سڑکوں پر مظاہرے میں شرکت کی تھی۔

نیروبی میں جمعے کے روز باہر سے آئے ہوئے انتہا پسند عالم عبداللہ الفیصل کی گرفتاری کے بعد جھڑپیں شروع ہوگئ تھیں۔اور فیصل کی گرفتاری پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے ایک گروپ پر پولیس کی فائرنگ سے کم سے کم دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہفتے کے روز کینیا کے داخلی سلامتی کے وزیر جارج سَیتوتی نے کہاتھا کہ اُس عالم جس قدر جلد ممکن ہو ، لازماً کینیا سے نکال دینا چاہئیے۔انہوں نے خیال ظاہر کیا تھا کہ جمعے کے روز کے ہنگاموں ہوسکتا ہے کہ الثباب ملوث ہو۔

سَیتوتی نے کہا ہے کہ جمعے کے اُ ن مظاہروں میں ہوسکتا ہے کہ صومالیہ کی انتہا پسند تنظیم الشّباب کے حامیوں نے شرکت کی ہو۔
امریکہ الشّباب کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ اس کا القاعدہ سے تعلق ہے ۔

جمعے کے مظاہروں میں بہت سے صومالی نژاد لوگوں نے بھی شرکت کی تھی۔ کینیا میں ہزاروں صومالی پناہ گزین مقیم ہیں۔

فیصل ، جو جمیکا میں پیدا ہوا تھا، ایک متنازع شخصیت ہے ۔ وہ اس سے پہلے برطانیہ میں مغربی لوگوں، یہودیوں اور ہندؤں کے خلاف نفرت پھیلانے کے الزام میں قید کاٹ چکا ہے۔ دہشت گردوں کی ایک عالمی فہرست میں بھی اُس کا نام ہے ۔

کینیا کی حکومت فیصل کو کینیا بھیجنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ لیکن ابھی تک کوئى بھی ایسا ملک اُسے راہ داری کے لیے ویزا دینے پر آمادہ نہیں ہوا، جہاں پہنچ کر وہ جمیکا جانے والی کوئى پرواز پکڑ سکے۔

اُس کے حامیوں کو شکایت ہے کہ اُسے کوئى الزام عائد کیے بغیر غیر منصفانہ طور پر حراست میں رکھا جارہا ہے۔

XS
SM
MD
LG