رسائی کے لنکس

مظاہروں کے باوجود افغان مشن پر قائم ہیں: امریکہ


مظاہروں کے باوجود افغان مشن پر قائم ہیں: امریکہ

مظاہروں کے باوجود افغان مشن پر قائم ہیں: امریکہ

القاعدہ اورطالبان کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کو حالیہ مظاہروں کی نذر نہیں کرسکتے، حالات جلد معمول پر آجائیں گے، پینٹگان

امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے ایک فوجی اڈے پر قرآن پاک کے مبینہ طور پر نذرآتش کیے جانے کے واقعے کے بعد بھڑک اٹھنے والے تشدد کے باوجود وہاں اپنے مشن کے لیے پرعزم ہیں۔

پینٹگان کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ امریکی قیادت والے اتحاد میں شامل عملہ افغان سکیورٹی فورسز کی تربیت پر بدستور مامور ہے باوجودیکہ وہاں قرآن پاک کو مبنیہ طور پر ناروا طریقے سے تلف کرنے کے واقعے کے خلاف پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ امریکہ اس واقعے پر معافی مانگ چکا ہے۔

تشدد میں حالیہ اضافے کے بعد افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کی فعالیت یا نتیجہ خیزی کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

پینٹگان کے ترجمان جارج لٹل نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ دور اندیشی سے کام لیتے امریکی فوجوں کی جانب سے طالبان عسکریت پسندوں کی پیش قدمی کو روکنے جیسے کامبیابیوں کا جائزہ لے رہا ہے

ان کے الفاظ میں ’’ ہم حالیہ واقعات پراپنی اس پیش رفت کو پس پشت نہیں ڈالیں گے جو ہم نے وسیع تر مقاصد کی راہ میں حاصل کی ہے۔ ایسے مقاصد جن میں القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو شکست دینا اور افغانستان کے اندر محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی ان کی صلاحیت کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔ ‘‘

امریکی فوجیں افغانستان سے سال 2014 میں مکمل انخلا سے قبل افغان فورسز کو سکیورٹی کی ذمہ داریاں تفویض کرنے پر کام کر رہی ہیں۔

افغانستان میں تشدد کی حالیہ لہر میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں چار امریکی بھی شامل ہیں۔ دو امریکی افسروں کو گزشتہ ہفتے افغان وزارت داخلہ کی عمارت کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ پپر کے روز 9 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب ایک بمبار نے اپنی گاڑی مشرقی افغانستان میں واقع نیٹواڈے پر بھک سے اڑادی۔

امریکہ اب اپنے مشیروں کو افغان وزارتوں سے واپس بلا رہا ہے۔

امریکی بحریہ کے ایک کپیٹن جان کربی نے جو کابل میں امریکی فوج کے ترجمان بھی ہیں، بتایا ہے کہ امریکی کمانڈرز اپنے عملے کو شہرکے اندر نقل وحرکت سے روک رہے ہیں۔

’’ میں ایسا نہیں کہہ سکتا کہ پریشانی کی کوئی بات ہی نہیں ہے۔ یقینا کابل میں چیزیں ٹھیک نہیں ہیں۔ لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ حالات یہاں معمول پر آ رہے ہیں‘‘

کربلی کا کہنا ہے کہ پیر کے روز جو مظاہرے ہوئے وہ پہلے کی نسبت، شدت کے اعتبار سے تین گنا کم تھے اور تمام کے تمام تشدد سے پاک تھے۔

امریکی فوجیں امریکی اہلکاروں پر نئے حملوں کے امکانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پیر کے روز نیٹو اڈے کے اندر فوجیوں کے لیے کافی اور پھلوں کے اندر کلورین بلیچ جیسے اجزا پائے گئے۔ اس بارے میں بعد تحقیقات جاری ہیں۔

XS
SM
MD
LG