رسائی کے لنکس

رفرنڈم کا نتیجہ کچھ بھی ہو، معاملہ ہار ہی کا لگتا ہے: تجزیہ کار


رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ نتائج کے بارے میں ابھی کوئی بات کہنا قبل از وقت ہوگی۔ اس سے تشدد ابھرنے کا امکان قوی لگتا ہے چاہے حتمی نتائج کچھ بھی ہوں، خاص طور پر اس لیے کہ جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کا معاملہ ابھی لوگوں کی یادداشت سے اوجھل نہیں ہوا

اتوار کے آئینی رفرنڈم میں ترک صدر رجب طیب اردوان اپنے آمرانہ اختیارات میں اضافے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، ایک بات واضح ہے کہ اپنے ناقدین اور ذرائع ابلاغ پر سختی برتنے کے باوجود، ملک شدید منقسم ہو چکا ہے، اور امکان اس بات کا ہے کہ یہ خلیج مزید وسیع ہو رہا ہے۔


یہ نہ صرف ترکی کے لیے بہتر نہیں، بلکہ اُن تمام حلقوں کے لیے ہھی خراب ہے جن کے اس خطے سے مفادات وابستہ ہیں۔ ملک کی اقتصادی طاقت اور تاریخی حکمت عملی کا حامل محل وقوع اِسے مشرق و مغرب کا سنگم بنانے کا باعث ہے، خاص طور پر اُس وقت جب شام کی خانہ جنگی جاری ہے اور اُس کی سرحد کے ساتھ خودساختہ دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑائی زوروں پر ہے۔


حالانکہ سرکاری طور پر یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ تبدیلیوں کے خلاف کی جانے والی مہم کو سختی سے محدود رکھا جائے، جس کا مقصد اردوان کی حکمرانی کو کھینچ تان کر ایک عشرہ یا اس سے بھی زیادہ دورانیہ کا کیا جاسکے، رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ نتائج کے بارے میں ابھی کوئی بات کہنا قبل از وقت ہوگی۔ اس سے تشدد ابھرنے کا امکان قوی لگتا ہے چاہے حتمی نتائج کچھ بھی ہوں، خاص طور پر اس لیے کہ جولائی میں ناکام فوجی بغاوت کا معاملہ ابھی لوگوں کی یادداشت سے اوجھل نہیں ہوا۔


چند ہی برس قبل، ترکی پھلتی پھولتی جمہوریت کا ایک روشن حوالہ تھا، جو یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کا کوشاں تھا۔ ترکی سات کروڑ 50 لاکھ کی آبادی کا ملک ہے جس کی ایک کروڑ 90 لاکھ کی آبادی 19 سے 29 برس کے جوانوں میں مشتمل ہے، جو یورپ کے لحاظ سے قابل رشک صورت حال ہے۔

آج ترکی پر حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگتا ہے، جب کہ 45000 سے زائد افراد قید و بند ہیں، جن میں وہ رہنما اور نو قانون ساز شامل ہیں جن کا تعلق پارلیمان میں موجود دوسری سب سے بڑی جماعت سے ہے، جن پر کُرد دہشت گردوں سے رابطوں کا الزام ہے۔


''ناں'' کی کیمپ کی ریلیوں پر پابندی عائد ہے، اس بنا پر کہ دہشت گردی کا امکان ہو سکتا ہے؛ جس امکان کے بارے میں دلائل میں کوئی خاص وزن نہیں۔ دراصل، رفرنڈم میں تجویز کردہ تبدیلوں کی مخالفت کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔


ایک زمانہ تھا کہ یہاں کا میڈیا فروغ پا رہا تھا، تندرست و توانا تھا۔ اب اُس کی آزادی شدید طور پر کم ہوچکی ہے، جب کہ متعدد صحافی قید ہیں۔ عدالت کے اختیارات صلب ہو چکے ہیں۔ بے روزگاری کی شرح 10.7 فی صد ہے، جب کہ نوجوان، جو معاشرے کے مستقبل کی علامت ہیں، اُن میں بے روزگاری کی شرح 25 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔


ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اپنا اثر و رسوخ روس کی جانب بڑھا رہا ہے، اور یورپی یونین میں شمولیت کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں، اگر یہ پہلے ہی ختم نہیں ہو چکے۔


ایسے میں، اردوان اپنی مجوزہ اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے مزید اقدام لینے پر مصر ہیں، جس سے حکومت کے پارلیمانی نظام کو بدلنا شامل ہے، جسے مخالفین آمرانہ قسم کی انتظامی صدارت کا نام دیتے ہیں، صدر کو عدالت پر فوقیت ہوگی، انتظامی حکم ناموں کے ذریعے کام چلایا جاسکتا ہے، جب کہ دو پانچ سالہ میعاد صدارت کی پابندی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔


اختیارات کی نگرانی اور توازن کا نظام بگڑ جائے گا۔


انتخاب پر اپنے تجزیے میں 'فریڈم ہائوس' نے لکھا ہے کہ ''باوجود اس بات کے کہ اردوان کا حکمرانی کا ریکارڈ تباہ کُن ہے، وہ زیادہ اختیارات سنبھالنے کے حق میں ہیں''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG