رسائی کے لنکس

اسلام مخالف فلم کے ہدایت کار کی مظاہرین پر تنقید


مصر میں مظاہرین امریکی سفارت خانے کی دیوار پر چڑھے ہوئے ہیں

مصر میں مظاہرین امریکی سفارت خانے کی دیوار پر چڑھے ہوئے ہیں

امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے مبینہ ہدایت کار نے اس پر احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں برداشت سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

امریکہ میں بننے والی توہین آمیز فلم کے مبینہ ہدایت کار نے فلم کے خلاف مظاہروں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے مسلمانوں کو برداشت سے کام لینے کا مشورہ دیا ہے۔

امریکی ریڈیو'ساوا' کو جمعے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مبینہ ہدایت کار نے کہا ہے کہ عربوں کو "اختلافی معاملات پر پرامن احتجاج کرنے کا سلیقہ سیکھنا چاہیے"۔

اپنے انٹرویو میں مبینہ ہدایت کار نے فلم کی تخلیق میں امریکی حکومت کے کردار سے متعلق قیاس آرائیوں کو "مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کا اس فلم سے کوئی لینا دینا نہیں۔

'ریڈیو ساوا' کے مطابق مبینہ ہدایت کار نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے تاہم ریڈیو حکام کا مذکورہ ہدایت کارسے رابطہ کرانے والے ایک ذریعے نے اس کا نام نکولا باسیلے بتایا ہے۔

کئی نشریاتی اور ابلاغی اداروں نے نکولا ہی کو 'دی انوسنس آف مسلمز' نامی توہین آمیز فلم کا اصل محرک قرار دیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق امریکی ریاست کیلی فورنیا میں مقیم مذکورہ شخص کی عمر 55 برس ہے اور وہ ایک مصری نژاد قبطی عیسائی ہے اور حال ہی میں بینک فراڈ کے ایک مقدمے میں قید کی سزا بھگتنے کے بعد رہا ہوا ہے۔

مذکورہ فلم میں پیغمبرِ اسلام کی توہین کی گئی ہے جس پر ان دنوں مسلم ممالک میں سخت احتجاج جاری ہے اور کئی عرب ممالک میں امریکی سفارت خانوں پر حملے بھی کیے گئے ہیں۔

لیبیا کے شہر بن غازی کے امریکی قونصل خانے پر مشتعل مظاہرین کے حملے میں لیبیا میں تعینات امریکی سفیر سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

'ریڈیو ساوا' سے گفتگو کرتے ہوئے مبینہ نکولا باسیلے کا کہنا تھا کہ اسے امید نہیں تھی کہ اس کی فلم پر عرب اور مسلم دنیا میں اتنا سخت ردِ عمل ظاہر کیا جائے گا۔

مبینہ ہدایت کار نے بتایا کہ فلم کا تمام عملہ غیر ملکی تھا جو نہ تو عربوں کے متعلق کچھ جانتے تھے اور نہ ہی انہوں نے کبھی عرب ممالک کا دورہ کیا تھا۔

اپنے انٹرویو میں فلم کے مبینہ ہدایت کار نے دورانِ احتجاج ہونے والی ہلاکتوں پر صدمے کا اظہار کیا تاہم اس کا موقف تھا کہ اسے یہ فلم بنانے پر کوئی افسوس نہیں۔

نکولا نے فلم میں کام کرنے والے بعض اداکاروں اور عملے کے ارکان کی جانب سے عائد کردہ اس الزام کو بھی رد کیا کہ انہیں حقیقت بتائے بغیر ان سے دھوکہ دہی کے ذریعے فلم کے لیے کام کرایا گیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG