رسائی کے لنکس

انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرہ بالی میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں خطے میں تجازت، معیشت، سلامتی اور دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کا دو روزہ سربراہ اجلاس انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرہ بالی میں شروع ہو گیا ہے جس میں خطے میں تجازت، معیشت، سلامتی اور دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

انڈونیشیا کے صدر سوسیلو بامبانگ یوڈویونو نے پیر کو اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے 21 رکن ممالک کو عالمی معیشت میں مندی کے اثرات سے نکلنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

علاقائی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر ایشیا کی نامور کاروباری شخصیات کے الگ اجلاس سے خطاب میں جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے نے اپنے ملک کی معیشت کو بڑھاوا دینے کے لیے اصلاحات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کروائی۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق اجلاس کے منگل کو جاری ہونے والے اعلامیہ میں خطے میں پیداوار، افرادی قوت کی شمولیت اور روزگار کے موقعوں میں اضافے سے متعلق بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔

ایشیا پیسیفک تعاون تنظیم کے 12 رکن ممالک آزادانہ تجارت سے متعلق ’’ٹرانس پیسیفک پاٹنرشپ‘‘ معاہدے پر مذاکرات میں مصروف ہیں۔ ان ممالک میں آسٹریلیا، برونائی، کینیڈا، چلی، جاپان، ملائیشیا، میکسیکو، نیوزی لینڈ، پیرو، سنگاپور، امریکہ اور ویتنام شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG