رسائی کے لنکس

فوج اپنے وقار کا ہر حال میں تحفظ کرے گی: جنرل راحیل


پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ( فائل فوٹو )

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ( فائل فوٹو )

جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاک فوج تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اپنے ادارے کے وقار کا بھی ہر حال میں تحفظ کرے گی۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ فوج اپنے ادارے کے وقار کا ہر حال میں تحفظ کرے گی۔

اُنھوں نے یہ بیان پیر کو تربیلہ کے علاقے غازی بیس میں سپیشل سروسز گروپ کے ہیڈ کوارٹر کے دورے کے دوران افسران اور جوانوں سے خطاب میں دیا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی ’آئی ایس پی آر‘ سے جاری ایک بیان کے مطابق فوج کے بارے میں بعض عناصر کی طرف سےغیر ضروری تنقید پر افسروں اور جوانوں کے تحفظات کے حوالے سے آرمی چیف کا کہنا تھا کہ موجودہ صورت حال میں جب کہ ملک اندرونی اور بیرونی مشکلات سے دو چار ہے، پاک فوج تمام اداروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اپنے ادارے کے وقار کا بھی ہر حال میں تحفظ کرے گی۔

جنرل راحیل شریف نے سپیشل سروسز گروپ سے تعلق رکھنے والے افسران و جوانوں کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوج ملک کے لیے کبھی بھی کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

بعض حلقوں کا تاثر ہے کہ فوج کے وقار کے تحفظ سے متعلق جنرل راحیل شریف کا یہ بیان سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف پر آئین شکنی سے متعلق فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ہونے والی تنقید کے جواب میں ہو سکتا ہے۔

لیکن فوج کے سرکاری بیان میں اس جانب کوئی اشارہ نہیں کیا گیا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سینیئر رہنما راجہ ظفر الحق نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پرویز مشرف پر خصوصی عدالت میں آئین شکنی کی فرد جرم عائد کرنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جماعت کے اراکین کو اس معاملے پر بیان بازی سے روک دیا تھا۔

’’وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جماعت کے اراکین اور کابینہ میں شامل وزرا کو اس بات سے روک دیا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف جو مقدمہ چل رہا ہے اُس پر وہ زیادہ رائے زنی نا کریں۔ اُس کا پس منظر بھی یہ ہی تھا کہ اُس حد تک نہیں جانا چاہیئے کہ کسی کی دل آزاری ہو یا کسی ادارے کو اس میں ہدف نا بنایا جائے۔‘‘

سابق صدر پرویز مشرف کو 2007 میں ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی کے نفاذ پر آئین شکنی کے الزامات کا سامنا ہے اور گزشتہ ہفتے اُن پر تین رکنی خصوصی عدالت نے فرد جرم عائد کی تھی لیکن فوج کے سربراہ نے صحت جرم سے انکار کیا۔

پرویز مشرف ملک کے پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہیں اس طرح کے مقدمے کا سامنا ہے اور وہ کہہ چکے ہیں اُن کے خلاف چلائے جانے والے اس مقدمے سے فوج نالاں ہے۔

تاہم حکومت میں شامل وزرا کا یہ موقف رہا ہے کہ یہ کارروائی فرد واحد کے خلاف ہے نا کہ کسی ادارے کے۔
XS
SM
MD
LG