رسائی کے لنکس

آسٹریلوی وزیر اعظم کی بھارت کو یورینیم برآمد کرنے کی حمایت


آسٹریلوی وزیر اعظم کی بھارت کو یورینیم برآمد کرنے کی حمایت

آسٹریلوی وزیر اعظم کی بھارت کو یورینیم برآمد کرنے کی حمایت

آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا گیلارڈ نے کہا ہے وہ چاہتی ہیں کہ اُن کی حکومت جوہری مواد یورینیم کی بھارت کو برآمد پر عائد پابندی ختم کر دے۔

مقامی اخبار ’دی سِڈنی مارنگ ہیرلڈ‘ میں منگل کو وزیر اعظم گیلارڈ کا لکھا ہوا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں اُنھوں نے خواہش ظاہر کی ہے کہ اُن کی حکمران لیبر پارٹی بھارت کی جانب اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائے۔

آسٹریلیا کئی ممالک کو یورینیم برآمد کرتا ہے جن میں امریکہ، چین اور جاپان شامل ہیں، لیکن بھارت کو یہ جوہری مواد اس لیے فراہم نہیں کیا جا رہا کیوں کہ اُس نے جوہری ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ سے متعلق قرار داد ’این پی ٹی‘ پر دستخط نہیں کر رکھے ہیں۔

لیکن جولیا گیلارڈ کہتی ہیں کہ دسمبر میں اُن کی لیبر پارٹی کی قومی کانفرنس ہو رہی ہے جس میں وہ چاہیں گی کہ ’این پی ٹی‘ پر دستخط نہ کرنے والے ملکوں کو یورنیم کی فروخت پر پابندی ختم کردی جائے تاکہ بھارت کو اس کی برآمد ممکن ہوسکے۔

التبہ اُنھوں نے واضح کیا ہے کہ پابندی ختم ہونے کے بعد بھی اسرائیل یا پاکستان کوآسٹریلوی یورنیم برآمد کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔

جولیا گیلارڈ کا کہنا ہے کہ بھارت کو یورینیم کی برآمد کے معاشی فوائد ہیں اور اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔

اُنھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کو یورینیم کی فروخت کے معاہدے میں یہ ضمانت دینا لازمی ہو گی کے اس جوہری مواد کو صرف توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

آسٹریلیا کا شماردنیا کے اُن چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں یورینیم کے سب وسیع ذخائر موجود ہیں۔

XS
SM
MD
LG