رسائی کے لنکس

داعش نے گزشتہ ہفتے عراقی دارالحکومت میں کئی بم دھماکے کیے جن میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے۔

عراق کے دارالحکومت بغداد میں جمعرات کو ایک مارکیٹ میں ہونے والے کار بم دھماکے میں کم ازکم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔

یہ حملہ بظاہر شدت پسند گروپ داعش کی طرف سے کیے جانے والے مہلک حملوں کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ بارود سے بھری ایک گاڑی کو شعیہ اکثریتی آبادی کے علاقے میں واقع سبزی اور پھلوں کی ایک مارکیٹ کے راستے کے قریب کھڑا کیا گیا تھا، اطلاعات کے مطابق اس بم دھماکے میں کم از کم 15 افراد زخمی بھی ہوئے۔

فوری طور کسی تنظیم نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم یہ شدت پسند گروپ داعش کی طرف سے کیے جانے والے حملوں سے مماثلت رکھتا ہے۔

داعش نے گزشتہ ہفتے عراقی دارالحکومت میں کئی بم دھماکے کیے جن میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہوئے۔ سنی انتہا پسند عراق کی سکیورٹی فررسز اور شعیہ علاقوں میں عام شہریوں کو اکثر نشانہ بناتے ہیں۔

دوسری طرف داعش کے جنگجو شمالی شہر موصل میں سخت مزاحمت کر رہے ہیں جہاں شہر کو واگزار کروانے کے لیے عراقی فورسز نے امریکہ کی معاونت سے اکتوبر کے وسط سے سخت بھرپور کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

موصل بغداد کے شمالی مغرب میں تقریباً 360 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے یہ ملک میں انتہا پسند گروپ کا آخری بڑا گڑھ ہے، عراق فورسز نے اب تک کی کارروائی کے دوران شہر کے ایک تہائی حصہ کو واگزر کروا لیا ہے۔

XS
SM
MD
LG