رسائی کے لنکس

سابق برطانوی وزیر کو زخمی کرنےپر بنگلہ دیشی خاتون کو سزا

  • عادل زیب

سابق برطانوی وزیر کو زخمی کرنےپر بنگلہ دیشی خاتون کو سزا

سابق برطانوی وزیر کو زخمی کرنےپر بنگلہ دیشی خاتون کو سزا

روشن آرا چودھری پہلی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی خاتون ہیں جنھوں نے القاعدہ کے نظریات سے متاثر ہوکر جرم کا ارتکاب اور اقرار کیا

برطانوی عدالت نے 25سالہ بنگلہ دیشی نژاد برطانوی خاتون کو سابق وزیر اور رُکنِ پارلیمان کو چاقو کے وار کرکے شدید زخمی کرنے کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔

برطانیہ میں پلی بڑھی روشن آرا چودھری نے گذشتہ مئی میں خزانے کے سابق وزیر، اسٹیفن ٹِم کو عراق پر حملے کی حمایت کی پاداش میں چاقو کے وار کرکے اُس وقت شدید زخمی کردیا تھا جب لیبر پارٹی کے رہنما مشرقی لندن میں واقع اپنے حلقے میں عوام کے مسائل سننے میں مصروف تھے۔

دورانِ تفتیش، روشن آرا نے برطانوی پولیس کو بتایا کہ اسٹیفن ٹِم پر حملہ کرکے اُس نے عراق کے بے گناہ مسلمانوں کے قتلِ عام کا بدلہ لیا ہے۔

واضح رہے کہ اسٹیفن پارلیمنٹ کے اُن برطانوی میمبران میں شامل تھے جنھوں نے عراق پر حملہ کرنے کی حمایت میں ووٹ ڈالا تھا۔

برطانوی پولیس کے مطابق روشن آرا نے انٹرنیٹ کے ذریعے عراق جنگ کی حمایت کرنے والے برطانوی سیاست دانوں کی ایک فہرست حاصل کر لی تھی کیونکہ اُس کا مقصد ایسی ہی کارروائیوں کی مدد سے سیاستدانوں سے بدلہ لینا تھا۔

ابتدائی تفتیش کے بعد دہشت گردی کی روکتھام کے خصوصی یونٹ نے روشن آرا کے کمپیوٹر سے القاعدہ کے امریکی نژاد رہنما انور الاولاکی کی انگریزی میں کی گئی تقریروں کی وِڈیوز بھی برآمد کی تھیں جو کہ حکام کے مطابق برطانوی رکن پارلیمان پر جان لیوا حملے کا باعث بنیں۔

برطانوی عدالت نے منگل کے روز واقعے کی وِڈیو فلم دیکھنے کے بعد صرف 14منٹ میں روشن آرا کو اقدامِ قتل اور عوامی مقامات پر چاقو رکھنے کا قصور وار ٹھہراتے ہوئے سزا سنانے کا اعلان کیا۔

روشن آرا جو کہ ابھی تک عدالت کے سامنے پیش ہونے سے انکاری ہے، اُنھوں نے اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات قبول کرتے ہوئےوکلا کو اُن کا دفاع کرنے سے بھی روک دیا تھا۔

واضح رہے کہ روشن آرا چودھری پہلی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی خاتون ہیں جنھوں نے القاعدہ کے نظریات سے متاثر ہوکر جرم کا ارتکاب اور اقرار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG