رسائی کے لنکس

اس جدید نظام کے تحت، سب سے پہلے سردخانے پہنچنے والی لاش کے فنگر پرنٹس لئے جاتے ہیں جنہیں’نیشنل ڈیٹا بیسڈ رجسٹریشن اتھارٹی یا ’نادرا‘ کے دفتر بھیجا جاتا ہے جہاں لاش سے متعلق ریکارڈ کی تلاش کا کام شروع ہوتا ہے اور لاش کا نام و پتہ ملنے کے بعد اس کے ایڈریس پر لاش کے لواحقین سے رابطہ کیا جاتا ہے

کراچی کی بدامنی نے جہاں شہر کو بہت سے دکھوں سے دوچار کیا ہے وہیں لاوارث لاشوں اور سرد خانوں میں اضافہ بھی نوٹ کیا گیا ہے۔ ان سرد خانوں میں ٹارگٹ کلنگ، نشے کے سبب، اسٹریٹ کرائم، ٹریفک حادثوں اور دیگر ناگہانی آفات کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں رکھی جاتی ہیں جن کی شناخت فوری طور پر اور اکثر اوقات کئی کئی ہفتوں تک نہیں ہو پاتی اور یوں معاملات پیچیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔

۔۔۔مگر اب شاید لاوارث لاشوں کو جلد اور درست شناخت مل سکے، کیوں کہ سی پی ایل سی یعنی سٹیژن پولیس لائزننگ کمیٹی اور ایدھی فاوٴنڈیشن کے درمیان اس حوالے سے باقاعدہ ایک معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے کے تحت لاوارث لاشوں کی شناخت کے لئے جدید تصدیقی نظام نے کام شروع کر دیا ہے جس کی مدد سے لاوارث لاشوں کی شناخت ممکن ہوسکے گی۔ اس کام کے لئے ایدھی ہوم سرد خانہ سہراب گوٹھ میں بائیومیٹرک سسٹم نصب کیا گیا ہے۔

اس جدید نظام کے تحت سب سے پہلے سرد خانے پہنچنے والی لاش کے فنگر پرنٹس لئے جاتے ہیں جنہیں’نیشنل ڈیٹا بیسڈ رجسٹریشن اتھارٹی یا ’نادرا‘ کے دفتر بھیجا جاتا ہے جہاں لاش سے متعلق ریکارڈ کی تلاش کا کام شروع ہوتا ہے اور لاش کا نام و پتہ ملنے کے بعد اس کے ایڈریس پر لاش کے لواحقین سے رابطہ کیا جاتا ہے۔

ایدھی ہومز کے ترجمان نے وائس آف امریکہ کو جدید سسٹم کی تنصیب کی تصدیق کرتے ہوئے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ سعد ایدھی کے مطابق سسٹم سی پی ایل سی نے نصب کیا ہے اور اس کے ذریعے اب تک کئی لاشوں کی شناخت ممکن ہوسکی ہے۔

سی پی ایل سی، سندھ کے سربراہ زبیر حبیب نے گفتگو کے دوران بتایا کہ سسٹم کی تنصیب پر دو ماہ سے کام جاری تھا۔ اس حوالے سے عملے کو تربیت بھی دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹرسٹ لاش کے ورثا کا صرف تین دن تک انتظار کرتی ہے جس کے بعد بائیو میٹرک فنگر پرنٹنگ اور ڈیجیٹل فوٹو گرافی کے ذریعے لاش کی شناخت کی جاتی ہے۔ سافٹ وئیر نادرا سے منسلک ہے جس کے سبب اب لاوارث لاشوں کی شناخت نہ ہو پانے کا سنگین مسئلہ حل ہو جائے گا۔

XS
SM
MD
LG