رسائی کے لنکس

ڈائننگ وِد القاعدہ

  • محمد الشناوی

ڈائننگ وِد القاعدہ

ڈائننگ وِد القاعدہ

ہگ پوپHugh Pope نے سیاح، صحافی اور عربی، فارسی اور ترکی زبان کے طالب علم کے طور پر، مشرقِ وسطیٰ میں تین عشرے گذارے ہیں۔ ان کی کتاب ڈائننگ وِد القاعدہ Dining with Al Qaeda میں ان کے اس طویل اور منفرد تجربے کا عکس نظر آتا ہے۔عام طور سے اس قسم کی کتابوں کا موضوع عرب،اسلام، سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور دہشت گردی ہوتی ہے ۔ لیکن اس کتاب کا دائرہ ان روایتی موضوعات سے وسیع تر ہے ۔

کتاب کا عنوان ڈائننگ وِد القاعدہ Dining with Al-Qaedaچونکا دینے والا ضرور ہے لیکن حقیقت سے دور نہیں۔ مصنف ہَگ پوپ نے واقعی القاعدہ کے ایک رکن کے ساتھ کھانا کھایا تھا۔امریکہ پر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے چند روز بعد، پوپ جو ا س وقت اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے نامہ نگار تھے، ہائی جیکرز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض گئے تھے۔

ہَگ پوپ

ہَگ پوپ

وہاں ان کی ملاقات ایک نوجوان عسکریت پسند سے ہوئی جس نے ان لوگوں کو ان کے خونیں مشن کی تیاری میں مدد دی تھی ۔وہ کہتے ہیں’’میں ایک نوجوان سعودی سے ملا جو افغانستان کے اس کیمپ میں رہ چکا تھا جہاں سعودی نوجوان اپنے مشن پر امریکہ روانہ ہونے سےپہلے رہے تھے۔ وہ ان میں سے نصف سے زیادہ لوگوں کو جانتا تھا اور اس نے کہا کہ وہ سب کمال کے نوجوان تھے، کیوں کہ اس کی نظر میں تو وہ بڑے عظیم لوگ تھے۔‘‘

یہ انٹرویو خاصا مشکل تھا۔ پوپ کہتے ہیں کہ ایک مرحلے پر انہیں قرآن شریف کا حوالہ دینا پڑا تا کہ وہ سعودی نوجوان ان کی جان بخش دے ۔ بالآخر یہ ملاقات دوستانہ ڈنر پر ختم ہوئی۔ پوپ کو خیال آیا کہ انہیں امریکہ کے لوگوں کو مشرقِ وسطیٰ کے زندگی کے مختلف روپ دکھانے چاہئیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں امریکیوں کو یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ بیشتر صحافی دیانتدار ہوتے ہیں اور جو کچھ آپ اخباروں میں پڑھتے ہیں وہ بیشتر صحیح لیکن نا مکمل کہانی ہوتی ہے اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جو انہیں معلوم ہونی چاہئیں۔

پوپ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے30 سال کے تجربے سے ایک اہم بات یہ سیکھی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کو بالکل ایک جیسی اسلامی دنیا سمجھنا غلط ہے، ’’میرے خیال میں کسی بھی جگہ سب لوگوں کو ایک جیسا سمجھنا غلط ہے ۔ مثال کے طور پر اسلام کو لیجیئے ۔ میں نے اپنی کتاب میں کوشش کی ہے کہ اس اصطلاح کو استعمال نہ کروں کیوں کہ میرے خیال میں ہر ایک کے لیے اس کے مختلف معنی ہیں۔‘‘

پوپ کہتے ہیں کہ بہت سے ملکوں نے اسلامی قانون کو اپنے نظام قانون کی بنیاد بنایا ہے لیکن انھوں نے اس پر بہت مختلف انداز سے عمل در آمد کیا ہے۔ مثلاً ایران میں بنیاد پرست اسلامی حکومت قائم ہے لیکن ایران کے لوگ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کے آرزو مند ہیں ۔

ڈائننگ وِد القاعدہ کے مصنف کہتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا عام طور سے جس طرح مطالعہ کیا جاتا ہے اور اس علاقے سے جس قسم کی اطلاعات آتی ہیں ان سے امریکیوں کو وہاں کے لوگوں کی بالکل غیر حقیقی اور منفی تصویر ملتی ہے ۔’’میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں اس طرح سوچنا چھوڑ دینا چاہیئے جیسے وہ کوئَی چڑیا گھر ہو جہاں ہر قسم کے جنگلی جانور موجود ہیں جن کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ ہم سب ایک جیسے انسان ہیں اور ہم سب ایک جیسی چیزیں پسند کرتے ہیں۔ ہمارے میڈیا میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں چُن چُن کر خوفناک خبریں ہی دی جاتی ہیں۔‘‘

تا ہم پوپ پُر امید ہیں کہ مشرق ِ وسطیٰ کے پڑھے لکھے لوگوں کی روز افزوں تعداد سوشل میڈیا استعمال کر رہی ہے اور وہ امریکی عوام کے سامنے مشرقِ وسطیٰ کی زیادہ صحیح تصویر پیش کرسکتے ہیں۔ انہیں خوشی ہے کہ صدر اوباما نے اسلامی دنیا کے ساتھ بہتر مکالمے کے لیے دروازہ کھولا ہے اور اس طرح وہ مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے مختلف پہلو امریکیوں کے سامنے رکھنے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

ایک سال پہلے ترکی میں تقریر کرتے ہوئے صدر نے کہا تھا کہ امریکہ کی اسلام کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے اور انھوں نے مسلمان دنیا کے ساتھ زیادہ وسیع شراکت داری کے لیے زور دیا تھا۔ اس کے دو مہینے بعد صدر اوباما قاہرہ گئے جہاں انھوں نے امریکہ اور مسلمانوں کے درمیان نئے آغاز کے لیے جدو جہد کا عہد کیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے اسکالر اور کہنہ مشق صحافی ہَگ پوپ کہتے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ مغرب میں جو لوگ ان کی کتاب پڑھیں گے وہ مشرقِ وسطی ٰ کے ملکوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگیں گے جس میں محاذ آرائی کم ہو گی اور وہاں کے لوگوں کی آوازیں زیادہ صاف اور واضح طور سے سنائی دیں گی۔ وہ اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی کتاب مشرقِ وسطیٰ کے لوگوں کے بارے میں نئے خیالات اور مختلف آرا کے اظہار کا ذریعہ ثابت ہو گی۔

XS
SM
MD
LG