رسائی کے لنکس

افغان پولیس کو فعال قوت بننے میں کئی سال لگ سکتے ہیں:انڈی پینڈنٹ


افغان پولیس

افغان پولیس

ایک برطانوی اخبار نے کہا ہے کہ وزارت خارجہ کے دفتر سے چوری چھپے ظاہر (leak) ہونے والی دستاویزات میں افغان نیشنل پولیس کی ایک مؤثر قوت بننے کی صلاحیت پر برطانوی عہدے داروں کے خدشات کا اظہار ہوتا ہے۔

اخبارانڈی پینڈنڈنٹ نے اپنی اتوار کی اشاعت میں لکھا ہے کہ افغان پولیس فورس میں پائی جانے والی بدعنوانی ، اپنے فرائض سے پہلو تہی اور منشیات کا استعمال ، طالبان کے خلاف جنگ میں ان کی کامیابی کی راہ میں حائل خطرات ہیں اور اس کی وجہ سے ملک سے برطانیہ کے انخلا میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ دستاویزات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس فورس میں مجموعی تعداد کا ایک چوتھائی ممکنہ طورپر فرضی بھرتیوں پر مشتمل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے ہلمند میں پولیس میں تازہ ترین بھرتی کیے جانے والے رنگروٹس کی نصف تعداد کا ،منشیات کے لیے کیا جانے والے ٹیسٹ پازیٹو تھا۔

وزرات خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ان کا محکمہ افغان نیشنل پولیس پربڑھتی ہوتی نکتہ چینی سے آگاہ ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ خدشات شدید نوعیت کے ہیں۔

اخبار انڈی پینڈنڈنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستاویزات کے اعداد وشمار کے مطابق ہلاکتوں، فرائض سے پہلوتہی اور برطرفیوں کی بنا پر افغان صوبے ہلمند کی پولیس میں انحطاط 60 فی صد کی بلندترشرح پر ہے۔برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ پولیس میں برطرفی کی عمومی وجوہ منشیات کے ٹیسٹ کا پازیٹو ہوناہے۔

اخبار کا کہناہے کہ دستاویزات اس خطرے کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ افغانستان میں ایک فعال پولیس فورس کی تشکیل میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG