رسائی کے لنکس

مسلمان مبلغ ابوحمزہ برطانیہ میں سات سال قید کی سزا کاٹ رہاہے۔ اور وہ اپنے جرم کے سلسلے میں امریکہ کو بھی مطلوب ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے امریکہ میں جہادی کیمپ قائم کرنے کی سازش کی اور نسلی فسادات کو ہوا دی۔

یورپی یونین کی عدالت کی ایک اہل کار کلیرا ووی نے سٹراس برگ میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ حتمی فیصلہ نہیں ہے اور ہمیں تین ماہ تک یہ جاننے کے لیے انتظار کرنا ہوگا کہ اسے گرینڈ چیمبر میں بھیجا جائے یا نہیں۔ جب حتمی فیصلہ ہوجائے گا تو پھر ابوحمزہ کو امریکہ کے حوالے کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہوگی۔

یورپی عدالت چھ ایسے کیسوں کی سماعت کررہی ہے جن پر امریکہ میں دہشت گردی کے تحت فردجرم عائد کی گئی ہے۔

عدالت نے ان چھ کیسوں میں سے ایک کا فیصلہ مؤخر کردیا ہے جس کے بارے میں کہا جارہاہے کہ جس شخص کو مقدمے کا سامناہے وہ ذہنی امراض میں مبتلا ہے۔لیکن پانچ ایسے افراد کے بارے میں فیصلہ سنا دیا ہے کہ انہیں امریکہ کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔

ملزمان کا دفاع کرنے والے وکلاء کا موقف تھا کہ امریکہ کی جیلوں میں انتہائی سخت سیکیورٹی قوانین کی وجہ سے ان کے موکلوں تشدد یا ایسا سلوک کیا جاسکتا ہے جو یورپی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہو۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاہے کہ ملزمان کو امریکہ میں نامناسب سزاؤں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

برطانیہ کی حکومت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ وزیر داخلہ ٹریسسا مے نے بی بی سی کو بتایا کہ ہم یورپی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد ابو حمزہ ا ور دیگر دہشت گردوں کو امریکہ کے حوالے کیا جاسکے گا۔ واضح طور پر یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ اس میں کہا گیا ہے کہ ان دہشت گردوں کی بیرون ملک حوالگی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔

برطانوی وزیر داخلہ نے کہاہے کہ برطانیہ ان افراد کی حوالگی کے معاملے میں امریکی حکام کے ساتھ کام کرے گا۔

اس فیصلے کا بعض بین الاقوامی حلقوں نے خیرمقدم نہیں کیا۔ ان میں سے ایک ملزم بابر احمد کے والد اشتیاق احمد کا کہناہے کہ ان کے بیٹے کو برطانیہ میں گذشتہ آٹھ برسوں سے مقدمہ چلائے بغیر قید میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابر برطانوی شہری ہے اور اس پر جن جرائم کا الزام ہے، وہ برطانیہ میں سرزد ہوئے تھے۔ اور اس سلسلے میں تمام شہادتیں برطانیہ میں ہی اکٹھی کی گئیں ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ برطانیہ کا انصاف امریکہ کے تابع ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے پر برطانیہ میں مقدمہ چلنا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG