رسائی کے لنکس

برطانیہ میں تارکین وطن کی خوشحالی کا راز

  • جولین ایلوگ

برطانیہ میں تارکین وطن کی خوشحالی کا راز

برطانیہ میں تارکین وطن کی خوشحالی کا راز

برطانیہ کا جہاں ایک اندازے کے مطابق تقریبا ستر لاکھ غیر ملکی تارکین وطن آباد ہیں ۔ ان میں بہت سے تارکین وطن ایسے ہیں جو اپنے ملک کے یورپی یونین کا حصہ بننے کے بعدروز گار کی تلاش میں برطانیہ آئے۔ آج مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے چھ لاکھ تارکین وطن برطانیہ میں آباد ہیں ، جن میں سے دو تہائی کا تعلق پولینڈ سے ہے اور موجودہ مشکل معاشی حالات کے باوجود وہ دیگر تارکین وطن سے بہتر صورت حال میں ہیں۔

لوگوں کو وطن سے دور وطن کے ذائقوں کی یاد دلانا ۔۔ یہ مقصد ہے لندن کے ایک پرانے اور مشہور ریستوران کا ۔۔لیکن باعث کشش صرف کھانا نہیں ہے ۔پولینڈ سے تعلق رکھنے والے تارک وطن جیرک ہونیک کے لئے یہ ان کی ملازمت ہے، جسے حاصل کرنے میں برطانیہ میں آبادپولش کمیونٹی ان کے کام آئی اور یہ اس سال کے شروع میں برطانیہ آکر آباد ہوئے ۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ملازمت تلاش کرنے سے لے کراپنے گھر میں سر چھپانے کی جگہ فراہم کرنے تک ہر طرح سے میری مدد کی اور مجھے برطانیہ اور لندن کے بارے میں ابتدائی معلومات فراہم کیں ۔

پولش تارکین وطن کے کاروبار برطانیہ میں آباد ہونےو الے 84 فیصد پولش باشندوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں لیکن برطانیہ کے اصل باشندوں کے ساتھ ایسا نہیں ۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے کارلوس وارگس سلوا کہتے ہیں کہ پولش آبادی کی معاشی صورتھال بہتر اس لئے ہے کہ وہ یہاں کام کرنے آتے ہیں ، اپنے خاندانوں کی وجہ سے نہیں ۔

ان کا کہناہے کہ وہ لیبر مارکیٹ میں ہر دستیاب ہر ایسی ملازمت کرنے کو تیار ہیں ، جو مقامی آبادی نہیں کرنا چاہتی ۔ وہ اپنی صلاحیتوں کے مقابلے میں بہت معمولی روزگار بھی قبول کر لیتے ہیں ۔

ماہر معاشیات جوناتھن پورٹس کہتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ پولینڈ اور مشرقی یورپی ملکوں کے لوگ برطانیہ میں دستیاب کم آمدنی والی ملازمتوں کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ ہیں ،وہ نوجوان ہیں اور آگے جاکر ترقی کریں گے ۔

لیکن 57 سالہ ایڈورڈ برٹ سکی جیسے عمر رسیدہ تارکین وطن کے لئے انگلش میں مہارت کافی نہیں ۔ وہ برطانیہ میں ایک سال سےکام ڈھونڈ رہے ہیں ، اور ان کا کہنا ہے کہ ملازمت کی تلاش میں مشکل کی وجہ مارکیٹ میں اتنے بہت سے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی موجودگی ہے ۔

ان کا کہناہے کہ اب دنیا کے ہر ملک سے آنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے ، ہر کسی کو نوکری کی تلاش ہے ۔ اور میں بھی اسی کام میں لگا ہوا ہوں۔ کیونکہ میں واپس پولینڈ نہیں جانا چاہتا ۔

ہونیک بھی واپس نہیں جانا چاہتے ، مگر اپنے خیر خواہ ہم وطنوں کی مدد سے ان کے پاس نوکری بھی ہے اور یہ اس سے لطف اندوز بھی ہورہے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG