رسائی کے لنکس

برطانیہ کا لیبیا میں باغیوں کی حکومت تسلیم کرنے کا اعلان


برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ (فائل فوٹو)
برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ (فائل فوٹو)

دریں اثناء نیٹو کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کی جانب سے لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کی ضرورت ہے۔ برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کارمین رومیرو کا کہنا تھا کہ جب تک معمر قذافی کی حامی افواج شہریوں پر حملے یا انہیں نشانہ بنانے کے قابل ہیں نیٹو کے فضائی حملے جاری رکھے جائیں گے۔

برطانیہ نے حزبِ مخالف کی 'عبوری قومی کونسل' کو لیبیا کی قانونی حکومت کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہوئے معمر قذافی کی انتظامیہ کے برطانیہ میں تعینات تمام سفارت کاروں کو ملک سے نکال دیا ہے۔

بدھ کو برطانوی وزیرِخارجہ ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے یہ فیصلہ لیبیا کی حزبِ مخالف کی بڑھتی ہوئی قانونی حیثیت، استعدادِ کار اور ملک بھر کے عوام تک پہنچنے میں اسے ہونے والی کامیابی کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

ہیگ کے بقول عبوری قومی کونسل لیبیا میں ایک آزاد اور جمہوری معاشرے کے قیام کے لیے کوشاں ہے جو معمر قذافی کی انتظامیہ کی ضد ہے جو ان کے بقول لیبیا کے عوام کے ساتھ روا رکھے گئے "بہیمانہ سلوک" کے باعث اپنی قانونی حیثیت کھو بیٹھے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور فرانس سمیت 30 سے زائد ممالک باغی اتحاد کو لیبیا کی عبوری قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کرچکے ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو میں برطانوی وزیرِخارجہ کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کی عسکری کوششوں کی بدولت لیبیا کے ہزاروں شہریوں کی زندگی محفوظ بنانے میں مدد ملی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کے تحت شہریوں کی حفاظت کی غرض سے نیٹو افواج لیبیا میں فضائی کارروائی کر رہی ہیں۔

ولیم ہیگ نے برطانیہ میں لیبیا کی حکومت کے منجمد کردہ 149 ملین ڈالرز کے اثاثے بھی بحا ل کرنے کا اعلان کیا۔

برطانیہ کی جانب سے باغیوں کی قانونی حیثیت تسلیم کرنے کا اعلان لیبیا کے وزیرِاعظم البغدادی المحمودی کے اس بیان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے معمر قذافی کی اقتدار سے رخصتی کو خارج از مذاکرات قرار دیا تھا۔

عبدالاعلیٰ الخطیب
عبدالاعلیٰ الخطیب

منگل کو دارالحکومت طرابلس میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ عبدالاعلیٰ الخطیب سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم المحمودی نے کہا تھا کہ لیبیا کے سیاسی بحران پر اس وقت تک مذاکرات کا راستہ نہیں نکلے گا جب تک ان کے بقول نیٹو کی "جارحیت" نہیں رک جاتی۔

اس سے ایک روز قبل عالمی ادارے کے نمائندہ خصوصی نے بن غازی میں باغی رہنماؤں سے بھی مذاکرات کیے تھے۔

طرابلس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الخطیب کا کہنا تھا کہ حکومت اور حزبِ مخالف کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد یہ واضح ہوگیا ہے کہ فریقین کے درمیان کسی سیاسی حل پر اتفاق " خاصا دور " ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دونوں فریق اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادہ ہیں۔

دریں اثناء نیٹو کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کی جانب سے لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کی ضرورت ہے۔

برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کارمین رومیرو کا کہنا تھا کہ جب تک معمر قذافی کی حامی افواج شہریوں پر حملے یا انہیں نشانہ بنانے کے قابل ہیں نیٹو کے فضائی حملے جاری رکھے جائیں گے۔

نیٹو کی جانب سے لیبیا پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ کئی ممالک کی جانب سے تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں جن کا مقصد معمر قذافی کی حکومت اور انہیں اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے سرگرم باغیوں کے درمیان کسی معاہدے کا حصول ہے۔

XS
SM
MD
LG