رسائی کے لنکس

سرکاری ملازمین کی ہڑتال سے برطانوی نظام میں خلل متوقع


سرکاری ملازمین کی ہڑتال سے برطانوی نظام میں خلل متوقع

سرکاری ملازمین کی ہڑتال سے برطانوی نظام میں خلل متوقع

برطانیہ میں بدھ کو ہونے والی ہڑتال سے توقع کی جارہی ہے کہ ملک بھر میں اسکولوں، اسپتالوں، ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں سمیت سرکاری دفاتر کا نظام بڑے پیمانے پر متاثر ہوگا۔

ملازمین حکومت کے اس منصوبے کےخلاف ہڑتال کر رہے ہیں جس کے تحت 185 ارب ڈالر کا بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے پینشن کی رقم میں اضافے اور مراعات میں کمی کے علاوہ طویل اوقات کار متعارف کروائے جارہے ہیں۔

برطانوی مزدوروں کی ایک نمائندہ تنظیم ’دی ٹریڈ یونین کانگریس‘ نے اس حکومتی منصوبے کے خلاف 20 لاکھ افراد کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ توقع ہے کہ تین دہائیوں میں یہ سب سے بڑی ہڑتال ہوگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے وہ اپنے منصوبے سے نہیں ہٹے گی کیونکہ پینشن کا موجودہ نظام جاری رکھنا ممکن نہیں۔ حکام نے یونینز کو متنبہ کیا ہے کہ ان کے اس اقدام سے ملک کی معیشت کو 80 کروڑ ڈالر کا نقصان ہو گا۔

ہیتھرو ایئر پورٹ کے منتظمین نے انتباہ کیا ہے کہ کسٹم اور امیگریشن سروسز میں 50 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ عام دنوں میں روزانہ اوسطاً ایک لاکھ 80 ہزار مسافر اس ہوائی اڈے کا استعمال کرتے ہیں۔

لندن کے دوسرے بڑے ہوائی اڈے گٹ وک نے بھی مسافروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ پروازوں میں تعطل کی توقع رکھیں۔

XS
SM
MD
LG