رسائی کے لنکس

برما: تابنے کی کان کے بارے میں رپورٹ کے اجرا میں تاخیر

  • ڈینیئل شیرف

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

برما کی سب سے بڑی تانبے کی کان کو ایک چینی کمپنی چلاتی ہے، اور اسے برما کی فوجی ملکیت کی کمپنی یونین آف میانمر اکنامک ہولڈنگ کمپنی کا تعاون حاصل ہے۔

برما میں تانبے کی ایک متنازع کان کے بارے میں رپورٹ جاری کیے جانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ فوج اور چین اس کان کے حامی ہیں جب کہ ملک میں اس کی سخت مخالفت ہو رہی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن کہتےہیں کہ اس کان کے بارے میں ہونے والی تفتیش سے نئی حکومت اور جمہوریت کی لیڈر آن سان سوچی کی آزمائش ہو جائے گی جنہیں اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا جس کے ذمے تانبے کے اس سودے کی تفتیش کا کام ہے۔

اس کمیشن کا تقرر برما کے صدر نے کیا تھا اور اسے 31 جنوری تک اپنی رپورٹ پیش کرنی تھی۔

لیکن یہ تاریخ آئی اور چلی گئی، نہ تو کوئی رپورٹ جاری کی گئی اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ وسطی برما میں اس منصوبے پر کس طرح کام ہو رہا ہے۔

برما کی سب سے بڑی تانبے کی کان کو ایک چینی کمپنی چلاتی ہے، اور اسے برما کی فوجی ملکیت کی کمپنی یونین آف میانمر اکنامک ہولڈنگ کمپنی کا تعاون حاصل ہے۔

انھوں نے جب اس کان میں توسیع کے لیے 1 ارب ڈالر کا منصوبہ پیش کیا تو مقامی گاؤں والوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ انہیں مناسب معاوضہ نہیں دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انہیں یہ پریشانی بھی تھی کہ اس منصوبے سے ماحول پر بہت برے اثرات پڑیں گے۔

گذشتہ مہینے، ایک ماہ تک مظاہرے ہوتے رہے اور انہیں منتشر کرنے کے لیے پولیس کو تشدد کا سہارا لینا پڑا ۔

تھین تھان اوو برما لائرز نیٹ ورک کی قانونی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں کہ پولیس نے احتجاجی مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے سفید فاسفورس کے کنستر استعمال کیے جو انتہائی سخت آتش گیر مادہ ہے۔

‘‘اس طرح وہ سب لوگوں کو خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ یہ کاروباری معاملہ ہے۔ اس سے دور رہیں ۔ اسے کوئی نہیں چھو سکتا ۔ اس طرح وہ لوگوں کو خوفزدہ بھی کرنا چاہتے ہیں۔’’

تھین کہتے ہیں کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ پولیس کو کارروائی کرنے کا حکم کس نے دیا تھا ۔ بعض لوگوں کو شبہ ہے کہ اس معاملے میں فوج ملوث ہو سکتی ہے۔

پولیس کی کارروائی کے بارے میں تنازعے کے با وجود، یہ بات واضح نہیں ہے کہ آنگ سان سوچی کے کمیشن کو اس معاملے کی تفتیش کا اختیار ہے بھی یا نہیں۔

ہیومین رائٹس واچ کے ڈیوڈ میتھسن کہتے ہیں کہ برما کی سویلین حکومت کے لیے اس قسم کی تفتیش بالکل نئی چیز ہے۔

‘‘یہ احتجاج اور اس کے خلاف پولیس کی کارروائی، اور تانبے کی کان سے متعلق دوسرے معاملات، یہ سب اہم چیزیں ہیں ۔ لیکن یہ اس بات کا بھی اہم ٹیسٹ ہے کہ حکام پُر امن مظاہروں سے، اور زمین کی ملکیت کے حقوق سے کس طرح نمٹتے ہیں ۔ لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملے کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔’’

چینی کمپنی اور برما کی فوج کے درمیان تانبے کی کان کا سودا فوجی حکومت کے زمانے میں ہوا تھا اور شفافیت کے فقدان کی وجہ سے اس پر تنقید کی جا رہی ہے۔

آنگ سان سوچی اس تنازعے پر پہلے ہی اظہارِ خیال کر چکی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگرچہ گاؤں والوں کے حقوق کی حفاظت ضروری ہے، لیکن برما کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتوں کا پاس کیا جائے۔

ڈیوڈ کہتے ہیں کہ کمیشن کی رپورٹ سیاست داں کی حیثیت سے آنگ سان سوچی کا بھی امتحان ہے۔

‘‘ان کا کام صرف یہ نہیں ہے کہ وہ ایک انتہائی اہم واقعے کی تفتیش کریں، بلکہ در اصل انہیں مختلف سیاسی خیالات رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں ہمارے دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے کتنی موثر ثابت ہوتی ہیں۔’’

این ایل ڈی کے ترجمان نیان ون کہتے ہیں کہ جب یہ رپورٹ جاری کر دی جائے گی اسی وقت پتہ چلے گا کہ آن سان سوچی مختلف حلقوں کی طرف سے پڑنے والے دباؤ کا کس طرح مقابلہ کرتی ہیں۔

’’ہمیں فائنل رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیئے اور پھر یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ علاقے کے لوگوں کی بھلائی کے لیے کیا کر سکتی ہیں۔’’

اس دوران برما کے میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ تانبے کی اس کان کے نزدیک احتجاج جاری ہیں۔ برما میں چین کے سفیر نے بھی گذشتہ ہفتے اس معاملے میں دلچسپی لی اور کانوں کے وزیر کے ساتھ میٹنگوں میں شریک ہوئے۔

برما میں چین کے سفارت خانے کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سفیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ برما نیک نیتی سے چین کے کاروباری مفادات کی حفاظت کرے گا، اور متنازعہ امور کو طے کرنے میں مدد دے گا۔
XS
SM
MD
LG