رسائی کے لنکس

سیسل شیر کا شکاری بول پڑا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی شہری والٹر پامر نے گردن کے کالے بالوں والے ایک نایاب شیر کا شکار کیا تھا جسے پیار سے ’سیسل شیر‘ کہا جاتا تھا۔

زمبابوے کے سب سے محبوب شیر کو جولائی میں شکار کرنے والے امریکی شہری نے کئی ہفتے خاموش رہنے کے بعد ایک اخبار کو انٹرویو دیا ہے۔

شیر کے شکار کے اس واقعہ نے ’ٹرافی ہنٹنگ‘ یعنی منتخب جانوروں کے شکار اور ان کے اعضا مثلاً سر، سینگ یا کھال کو بطور یادگار رکھنے پر بین الاقوامی سطح پر بحث چھیڑ دی تھی۔

دانتوں کے معالج والٹر پامر نے اتوار کو روزنامہ ’منیا پولیس سٹار ٹربیون‘ اور ایسوسی ایٹڈ پریس سے ایک مشترکہ انٹرویو میں کہا کہ ’’اگر انہیں پتا ہوتا کہ اس شیر کا کوئی نام ہے اور یہ اس ملک اور تحقیق کے لیے اہم ہے تو یقیناً وہ اس کی جان نہ لیتے۔۔۔۔ ہماری شکاری پارٹی میں سے کسی کو پہلے یا بعد میں اس شیر کے نام کا نہیں معلوم تھا۔‘‘

والٹر پامر نے گردن کے کالے بالوں والے ایک نایاب شیر کا شکار کیا تھا جسے پیار سے ’سیسل شیر‘ کہا جاتا تھا۔

اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اس کی گردن پر ایک ’جی پی ایس کالر‘ لگا ہوا تھا کیونکہ آکسفورڈ یونیورسٹی اس پر تحقیق کر رہی تھی۔ سیسل زمبابوے کے وسیع ہوانگ نیشنل پارک میں آنے والے سیاحوں میں کافی مقبول تھا۔

پچپن سالہ والٹر پامر نے کہا کہ یہ شکار قانونی تھا اور ان پر کسی جرم کا الزام نہیں۔

دانتوں کے معالج نے بتایا کہ انہوں نے شیر کو پارک کی حدود سے باہر اپنی کمان سے ایک تیر مارا مگر وہ فوراً نہیں مرا۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ زخمی شیر 40 گھنٹوں تک گھومتا رہا اور اسے گولی سے ختم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شیر کو اگلے دن ڈھونڈ لیا گیا اور ایک اور تیر سے ختم کر دیا گیا۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے ہوانگ نیشل پارک سے باہر گائیڈز کی نگرانی میں شکار کے لیے کتنے پیسے ادا کیے اور صرف یہ کہا کہ یہ رقم 50 ہزار ڈالر سے زیادہ نہیں تھی۔

سفاری آپریٹرز ایسوسی ایشن آف زمبابوے کے صدر ایمانوئیل فنڈیرا نے کہا تھا کہ پامر گائیڈز کے ساتھ مل کر سیسل کو دھوکے سے ہوانگ نیشنل پارک سے باہر غیر محفوظ علاقے میں لائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ’’ایک مردہ جانور کو اپنی گاڑی کے ساتھ‘‘ باندھا۔

فنڈیرا نے یہ بھی کہا کہ شکاری پارٹی نے جی پی ایس کالر کو تباہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔

یہ واضح نہیں کہ سیسل کی لاش کا کیا ہوا۔ والٹر پامر نے اتوار کو انٹرویو میں اس کی کوئی تفصیلات نہیں دیں۔

جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم کارکنوں نے سیسل کے شکار کے بعد پامر کو الزامات کا سامنا کرنے کے لیے زمبابوے بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم والٹر کے مشیر جو فرائیڈبرگ کے مطابق زمبابوے نے ان کی واپسی کا رسمی مطالبہ نہیں کیا۔

والٹر پامر نے کہا کہ ان کے خلاف نفرت کے اظہار سے ان کے اہلخانہ اور ان کے کلینک کے ملازمین کی زندگیوں میں خلل پیدا ہونے کا انہیں بہت افسوس ہے۔ لوگوں نے ان کے گھر اور کلینک کے باہر مظاہرے کیے۔ شیر کی موت کی خبر پھیلنے کے بعد ان کے دفتر کے باہر آنے والے مظاہرین میں بچے بھی شامل تھے جنہوں نے شیر جیسا لباس پہن رکھا تھا۔

ان کا کلینک کئی ہفتوں تک بند رہنے کے بعد اگست کے اواخر میں کھول دیا گیا مگر وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ پامر نے کہا کہ وہ منگل کو کام پر واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آزمائش میں ان کی اہلیہ اور بیٹی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

اس واقعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غم و غصے کے بعد بہت سی فضائی کمپنیوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ شکار کیے جانے والے شیر، چیتے، ہاتھی، گینڈے اور بھینسے کے اعضا نہیں لے جائیں گی۔

تاہم کچھ افریقی ممالک نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل پابندی نے جنگلی حیات کی قانونی اور غیر قانونی کا فرق ختم کر دیا ہے یا یہ کہ اس پابندی سے جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا جن کا انحصار شکاریوں کی طرف سے آنے والی آمدن پر ہے۔

XS
SM
MD
LG