رسائی کے لنکس

چین کے دفاعی بجٹ میں اس سال ہونے والا اضافہ گزشتہ سال کی نسبت کم ہے جب دفاعی مصارف میں 12.2 فیصد کا اضافہ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ مسلسل پانچواں سال ہو گا جب دفاعی بجٹ میں اس قدر اضافہ کیا گیا ہے۔

چین اس سال اپنے دفاعی بجٹ میں 10 فیصد تک اضافہ کرنے جا رہا ہے۔

چین کی نیشنل پیپلز کانگرس کی ترجمان فو ینگ کی طرف سے بدھ کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کا مطلب ہے کہ چین کا سرکاری طور پر اعلان کردہ بجٹ 2015ء کے لیے 145 ارب ڈالر ہو گا۔

فو نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کا اعلان چین کی رسمی پارلیمان کی طرف سے جمعرات کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا جائے گا۔

چین کے دفاعی بجٹ میں اس سال ہونے والا اضافہ گزشتہ سال کی نسبت کم ہے جب دفاعی مصارف میں 12.2 فیصد کا اضافہ کیا گیا۔ تاہم یہ مسلسل پانچواں سال ہو گا جب دفاعی بجٹ میں اس قدر اضافہ کیا گیا ہے۔

کئی تجزیہ کار اس شبہ کا اظہار کر چکے ہیں کہ چین اپنے سرکار ی طور پر اعلان کردہ بجٹ سے زیادہ اپنے دفاع پر خرچ کرتا ہے تاہم اس کی دو وجوہات ہیں، ایک تو شفافیت کا نہ ہونا اور دوسری کئی ایک وجوہات ہیں جس میں بدعنوانی بھی شامل ہے۔

واشنگٹن اور اس کے اتحادی چین پر الزام عائد کرتے ہیں کہ چین اپنی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے بحیرہ جنوبی اور مشرقی چین میں اپنے ہمسائیوں کو ڈرانے دھماکنے کے لیے استعمال کرتا ہےجن کے ساتھ بیجنگ کے علاقائی تنازعات ہیں۔

چین یہ کہتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کرتا ہے کہ وہ ساز و سامان کو جدید بنانے اور اپنی 23 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل فوج کی دفاعی صلاحیت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

فو نے کہا کہ "بنیادی طور پر چین کی دفاعی پالیسی دفاع پر مبنی ہے۔ اس کی وضاحت صاف صاف آئین میں کر دی گئی ہے۔ ہم اس سمت اور اصول کو آسانی سے تبدیل نہیں کریں گے"۔

چین کے کئی ہمسایہ ممالک اس موقف کو تسلیم نہیں کرتے اور انہوں نے بھی اپنے (دفاعی) مصارف میں اضافہ کر دیا ہے۔

جاپان نے اس سال اپنے فوجی بجٹ میں 2.8 فیصد اضافے کی ساتھ ریکارڈ 42 ارب ڈالر مختص کیے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 11 فیصد اضافے کے ساتھ 40 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔

اگرچہ چین نے اپنے دفاعی مصارف میں مسلسل اضافہ کیا ہے تاہم بیجنگ اب بھی امریکہ کے مقابلے میں بہت تھوڑی رقم اپنی فوج پر خرچ کرتا ہے۔ امریکہ نے اس سال اپنے بجٹ میں دفاع اور غیر ممالک کے تنازعات کے لیے 600 ارب ڈالر کی رقم تجویز کی ہے۔

XS
SM
MD
LG