رسائی کے لنکس

چین: شدید بارشیں اور سیلاب، 43 افراد ہلاک

  • پیٹر سمپسن

چین کو، جہاں شدید بارشوں کے نتیجے میں دریا اپنے کناروں سے ابل پڑے ہیں، گذشتہ 12 سال کے عرصے کے بدترین سیلابوں کا سامنا ہے اور اگلے 24 گھنٹوں کے لیے خراب موسمی حالات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونے والی طوفانی بارشیں 43 انسانی زندگیاں نگل چکی ہیں اور 40 افراد ابھی تک لاپتا ہیں۔

دریائے یانگزے کے بالائی اوروسطی علاقوں میں جاری مسلسل بارشوں سے حالات مزید خراب ہورہے ہیں اور سمندری طوفان کانسون کا خطرہ سرپر ہےجس سے ملک کے جنوبی حصے میں مٹی کے تودے گرنے سے صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے اور سیلاب روکنے کے لیے بنائے جانے والے پشتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

چینی صدر ہو جن تاؤ اور وزیر اعظم وین جیا باؤ مقامی حکومتوں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا حکم دے چکے ہیں۔ انہوں نے عہدے داروں سے کہاہے کہ وہ ان علاقوں سے مقامی آبادی کو نکال لیں جہاں پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان شین گانگ کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلابوں سے تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ حکام سیلابوں سے مزیدانسانی جانوں اور دیگرنقصانات سے بچانے کی ہر ممکن کوششیں کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاحت کے موسم کی وجہ سے ان دنوں چین میں بہت سے غیر ملکی آئے ہوئے ہیں، انہوں نے سیاحوں کو مشورہ دیا کہ وہ موسمی صورت حال کے بارے میں آگاہ رہیں اور اپنے حفاظتی انتظامات پر توجہ دیں۔

بارشوں اور سیلابوں میں لاپتا ہونے والے افراد میں سے اکثر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مٹی کے تودوں کے نیچے دفن ہوکرہلاک ہوچکے ہیں۔

فوج کو متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

1998ء میں دریائے یانگزےمیں آنے والے سیلابوں سے چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑاتھا۔ اس سیلاب سے چین کو 37 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان پہنچا تھا۔

XS
SM
MD
LG