رسائی کے لنکس

سرکاری خبر رساں ادارے نے ایک تبصرے میں کہا ہے کہ امریکی رپورٹ ’’ شوریدہ سری سے دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے بدنام زمانہ عمل کا تسلسل‘‘ ہے۔

چین نے مذہبی آزادی پر سالانہ امریکی رپورٹ کو گھمنڈی اور کم علم قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افواہوں اور بے بنیاد الزامات پر مبنی ہے۔

سرکاری نیوز ایجنسی ژنواء میں منگل کو شائع ہونے والے ایک تبصرے میں کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ ’’ شوریدہ سری سے دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کے بدنام زمانہ عمل کا تسلسل‘‘ ہے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کی سالانہ رپورٹ پیر کو جاری کی گئی جس میں چین، افغانستان، پاکستان، ایران اور شمالی کوریا میں مذہبی آزادی کے فقدان پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

اس کے مطابق چین میں 2011ء کے دوران ’’مذہبی آزادی اور اس کے تحفظ کے لیے سرکاری احترام میں نمایاں ابتری آئی ہے‘‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تبت اور مغربی خطے شنجیانگ، جہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے، میں مذہبی آزادی کے خلاف شدید جبر و تشدد کا مظاہرہ کیا گیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG