رسائی کے لنکس

کراچی میں اسمگل شدہ پیٹرول کی فروخت جاری


صوبہ سندھ کو پیٹرول کی اس اسمگلنگ سے یومیہ 40 سے 50 ملین روپے کا نقصان ہورہا ہے۔

گزشتہ ہفتے حب میں ہونے والے انتہائی خطرناک سڑک حادثے کا سبب غیر قانونی طور پر بسوں اور دیگر ذرائع آمد ورفت کے ذریعے اسمگل ہونے والے پیٹرول کو قرار دیا جارہا ہے۔ ایندھن کی یہ اسمگلنگ ملک کو دوہرا نقصان پہنچ رہی ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق ایک جانب صرف سندھ کو اس سے چالیس سے پچاس ملین روپے یومیہ نقصان پہنچ رہا ہے تو دوسری جانب قیمتی انسانی جانوں کا رسک بڑھ گیا ہے۔

ایران سے پیٹرول، ڈیزل اور پیٹرولیم کی دیگر مصنوعات کی اسمگلنگ کئی سال سے جاری ہے لیکن حب سڑک حادثے نے اسے مزید عیاں کردیا ہے۔

اسمگلنگ کی سب سے بڑی وجہ اس کے کم نرخ ہیں۔ پاکستان میں پیٹرول کی موجودہ قیمت سو روپے سے بھی زیادہ ہے جبکہ ایرانی اسمگل شدہ پیٹرول اس کے مقابلے میں کہیں کم داموں پر دستیاب ہے جس کی وجہ سے اس کی مانگ اور اسمگلنگ دونوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتاجارہا ہے۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے نے جب اس اسمگلنگ سے متعلق معلومات اکھٹا کیں تو کئی نئے انکشافات ہوئے۔ اس وقت بلوچستان پیٹرولیم کی اسمگلنگ کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ صوبے سے ایران کی سرحدیں قریب ہیں جہاں سے یہ پیٹرول اسمگل ہوتا ہے۔ بعد میں یہ کوئٹہ اور جیکب آباد کے راستے اندرون سندھ پہنچتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمگلنگ ڈھکے چھپے انداز میں نہیں ہوتی بلکہ مسافرکوچز اور بڑے بڑے ٹینکروں کے ذریعے کھلے عام ہورہی ہے۔ مقامی میڈیا میں بھی پیٹرولیم کی اسمگلنگ سے متعلق خبریں مسلسل شائع ہورہی ہیں لیکن اسے روکنے کے لیے ابھی تک کوئی باقاعدہ مہم نا تو شروع ہوسکی ہے اور نہ اسے اب تک روکا جاسکا ہے۔

انوکھے، مگر پر خطر۔۔ ’ڈبہ پیٹرول پمپس‘
کراچی کی بات کریں تو کراچی کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے علاقوں میں اسے اس قدر کھلے انداز میں فروخت کیا جارہا ہے کہ لوگ جگہ جگہ پان کے کھوکھوں کی طرح اسے پلاسٹک کی بوتلوں میں کم داموں خرید رہے ہیں، خاص کر بائیکرز۔

نیوکراچی، نارتھ کراچی، سرجانی، گولیمار، ملیر اور شہر کے دیگر بہت سارے علاقوں میں یہ پیٹرول بچے بھی باآسانی خرید رہے ہیں۔ لال مارکیٹ کے رہائشی ساجد سے جب وی اواے کے نمائندے نے اس موضوع پر بات کی تو بہت دیر تک تو اسے یہ یقین ہی نہیں آیا کہ جو پیٹرول وہ خرید رہا ہے وہ ایرانی، غیر قانونی اور اسمگل شدہ ہے۔

اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ نیو کراچی کے علاقے ’ڈی کا موڑ‘، ’لال مارکیٹ‘، ’کالا اسکول‘ اور یوسف گوٹھ میں جگہ جگہ باقاعدہ سرکاری پیٹرولیم فروخت کرنے والی کمپنی کے نقلی پمپس نصب کئے گئے ہیں اور لوگ وہاں سے اسی طرح سے مشینی پمپس کے ذریعے موٹرسائیکلز میں پیٹرول ڈلوارہے ہیں جیسے پی ایس او کے پیٹرول پمپس سے بھرواتے ہیں۔

پمپس پر موجود بیشتر لوگوں کا کہنا تھا ”پیٹرول کہیں سے بھی بھروائیں، اس میں کیا حرج ہے؟ بلکہ اس سے تو ہمیں فائدہ ہی ہے کہ کم ریٹ پر پیٹرول مل رہا ہے۔“

ایسے ہی ایک اور نوجوان سلیم کا کہنا تھا کہ محلے کی عام دکانوں پر پیٹرول کی دستیابی سے اسے بہت فائدہ ہے۔ حالات خراب ہونے پر بھی ان گلی محلوں کی دکانوں پر پیٹرول ملتا رہتا ہے ورنہ پمپس تو حالات خراب ہونے کی خبر بھی سن لیں تو سب سے پہلے بند کردیئے جاتے ہیں۔ پھر پیٹرول کی خریداری کے لئے اسے گھر سے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا۔

سلیم جیسے اور بہت سے نوجوانوں کے نزدیک انتہائی جلد آگ پکڑلینے والے اس ایندھن کی بغیر کسی احتیاطی تدابیر کے فروخت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثہ تو کہیں بھی ہوسکتا ہے، اس پر کیوں دماغ کھپایا جائے۔

اس تمام صورتحال پر پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع کا کہنا ہے ”کراچی اور اس کے مضافات میں کم ازکم پانچ سو ”ڈبہ“ اسٹیشنز یہی کام کررہے ہیں، انہوں نے باقاعدہ بڑی بڑی کمپنیوں کے ناموں والے ڈسپنسرز لگارکھے ہیں تاکہ لوگوں کو کسی قسم کا شک نہ ہوسکے۔“

شہر کے بعض مقامات سے تو اسمگل شدہ پیٹرول اسی ریٹ پر فروخت کئے جانے کی بھی اطلاعات ہیں جس ریٹ پر اصل پیٹرول پمپس اسے فروخت کرتے ہیں۔ نمائندے کی جانب سے کیے گئے جائزے کے مطابق ’ڈبہ پیٹرول پمپس‘ اور عام پمپس پر فروخت ہونے والے ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں سات سے بارہ روپے کا فرق ہے۔ گاڑی اور موٹر سائیکل مالکان اس فرق کو ’بڑی بچت‘ قرار دیتے ہیں اسی لئے ڈبہ پیٹرول پمپس اور ان پر اسمگل شدہ ایندھن کی فروخت دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم نے شہر کے 20 تھانو ں میں ڈبہ پمپس کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کرائی ہیں لیکن اس غیر قانونی کاروبار پر کوئی فرق نہیں پڑا نہ ہی ان کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی اور نہ ہی سرکاری سطح پر اسے روکنے کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا۔
XS
SM
MD
LG