رسائی کے لنکس

داعش خواتین کو سوشل میڈیا کے ذریعے 'فروخت' کر رہا ہے: رپورٹ


بے گھر ہونے والی ایک یزیدی خاتون اپنے بچوں کے ساتھ (فائل فوٹو)

بے گھر ہونے والی ایک یزیدی خاتون اپنے بچوں کے ساتھ (فائل فوٹو)

جان کربی نے کہا کہ "یہ اخلاقی گراوٹ نہ صرف داعش کے پست زندگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ اسلامی عقیدے کے منافی ہے اور اس (گروپ) کو شکست دینے کے ہمارے عزم کو اور مضبوط کرتی ہے۔"

شدت پسند گروپ داعش نے اطلاعات کے مطابق سماجی رابطوں کے مختلف ذرائع کو خواتین اور بچوں کی فروخت کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ایجنسی "ایسوسی ایٹڈ پریس" نے خبر دی ہے کہ داعش یزیدی خواتین اور بچوں کی فروخت کے لیے 'ویٹس ایپ'، 'فیس بک' اور 'ٹیلی گرام' پر کوڈز کی شکل میں ان کی فروخت کے اشتہار دے رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ امریکہ داعش کی طرف سے انسانوں کو فروخت اور خاص طور پر جنسی غلامی کے لیے استعمال کرنے کی خبروں پر حیران ہے۔

"یہ اخلاقی گراوٹ نہ صرف داعش کے پست زندگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ اسلامی عقیدے کے منافی ہے اور اس (گروپ) کو شکست دینے کے ہمارے عزم کو اور مضبوط کرتی ہے۔"

داعش نے اگست 2014ء میں شام کی سرحد کے قریب واقع عراقی دیہاتوں پر حملے کے دوران ہزاروں یزیدی خواتین اور بچوں کو اغوا کر لیا تھا۔

امریکی فضائیہ کی مدد سے عراقی کرد فورسز نے بہت سے علاقوں کو قبضہ دوبارہ حاصل تو کر لیا ہے لیکن یہاں بہت سے بچے یتیم ہو چکے ہیں اور باور کیا جاتا ہے کہ بہت سی نوجوان لڑکیوں کو داعش نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔

ان غلاموں سے جبری مشقت لینے کے ساتھ ساتھ انھیں جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ شدت پسندوں کی قید سے فرار ہونے والے بعض خواتین نے بتایا اپنی تحویل میں رکھے گئے لوگوں کی داعش بہت کڑی نگرانی کرتا ہے۔

داعش کی قید سے فرار ہونے والی ایک لڑکی نادیہ مراد نے حال ہی میں امریکی اور یورپین قانون سازوں پر زور دیا تھا کہ وہ یزیدیوں کی مدد کے لیے مزید اقدام کریں۔

XS
SM
MD
LG