رسائی کے لنکس

نائجیریا: شدت پسندوں کے حملے، درجنوں افراد ہلاک


نائجیریا کی ریاست بورنو 'بوکو حرام' کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔

نائجیریا کی ریاست بورنو 'بوکو حرام' کے حملوں سے سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے تینوں دیہات میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں تاہم اب تک ہلاکتوں کی درست تعداد کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔

نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں تین دیہات پر جنگجووں کے حملے میں درجنوں شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق فوجی وردیوں میں ملبوس جنگجووں نے منگل کی شب کیمرون کی سرحد کے نزدیک واقع تین دیہات پر حملہ کیا۔

حملے کا نشانہ بننے والے دیہات نائجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو میں واقع ہیں جو شدت پسند تنظیم 'بوکو حرام' کا گڑھ سمجھی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق حملہ آور فوجی ٹرکوں پر سوار تھے جنوں نے دیہاتیوں پر اندھادھند گولیاں برسائیں اور گھروں اور گرجا گھروں کونذرِ آتش کردیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے تینوں گاؤں میں درجنوں افراد مارے گئے ہیں تاہم اب تک ہلاکتوں کی درست تعداد کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے دیہات کی ایک تہائی آبادی عیسائی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ حملہ آوروں نے آیا صرف عیسائیوں کو ہی نشانہ بنایا۔

'بوکو حرام' کے جنگجو ماضی میں کئی گرجا گھروں کو بم حملوں کا نشانہ بنا چکے ہیں لیکن گزشتہ پانچ برسوں سے جاری ان کی دہشت گرد کارروائیوں میں زیادہ تر مسلمان ہی ہلاک ہوئے ہیں۔

حالیہ ہفتوں کے دوران نائجیریا میں 'بوکو حرام' کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور شدت پسند تنظیم کے جنگجو آئے دن سرحدی دیہات پر حملہ کرکے دیہاتیوں کو قتل اور املاک کو تباہ کر رہے ہیں۔

'بوکو حرام' کے حملوں میں اضافے اور گزشتہ ماہ 200 سے زائد طالبات کے اغوا کی واردات کے بعد عالمی برادری خصوصاً مغربی ملکوں نے نائجیریا کی حکومت پر شدت پسندت تنظیم کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔

عالمی دباؤ کے زیرِ اثر گزشتہ ہفتے ہی نائجیرین صدر گڈلک جوناتھن نے فوج کو 'بوکو حرام' کے جنگجووں کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم دیا ہے لیکن اس کے باوجود تنظیم کے حملوں میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

پانچ سال قبل نائجیریا کی بورنو ریاست سے شروع ہونے والی 'بوکو حرام' کی شدت پسند تحریک اب تقریباً تمام وسطی افریقی ممالک کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے۔

تنظیم کی 2009ء سے جاری شدت پسند کارروائیوں کے نتیجے میں صرف نائجیریا میں اب تک ہزاروں افراد مارے جاچکے ہیں۔

'بوکو حرام' کے جنگجووں نے نائجیریا کے پڑوسی ملکوں میں بھی کئی ہلاکت خیز حملے کیے ہیں جن کے بعد گزشتہ ماہ کیمرون اور چاڈ نے تنظیم کے خلاف کارروائیوں میں شدت لانے کا اعلان کیا تھا۔
XS
SM
MD
LG