رسائی کے لنکس

یہ مقبرہ نیپال میں بُدھ مت کے مقدس علاقے لمبینی میں مایا دیوی مندر میں دریافت کیا گیا۔ لمبینی کو یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثے کی حیثیت حاصل ہے

ماہرین ِ آثار ِ قدیمہ کو بُدھ مت سے متعلق ایک قدیمی مقبرے کے آثار ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ بُدھ مت کی تاریخ کا قدیم ترین مقبرہ ہے۔

یہ مقبرہ نیپال میں بُدھ مت کے مقدس علاقے لمبینی میں مایا دیوی مندر میں دریافت کیا گیا۔ لمبینی کو یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثے کی حیثیت حاصل ہے۔

روبن کوننگھم کا تعلق انگلستان کی ڈرہم یونیورسٹی کے آثار ِ قدیمہ ڈیپارٹمنٹ سے ہے۔

روبن کوننگھم کہتے ہیں کہ، ’ہمیں بُدھا کی زندگی کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں۔ ہمیں بُدھا کے حوالے سے جو معلومات ہیں وہ یا تو کتابوں میں درج ہیں یا پھر سینہ در سینہ منتقل ہونے والی ثقافت کا جُزو رہی ہے‘۔

روبن کوننگھم مزید کہتے ہیں کہ، ’ہم چاہتے تھے کہ بُدھا کی پیدائش سے متعلق چند سوالات کے جواب مل جائیں۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ لمبینی میں ہمیں ایسے شواہد اور نشانات ملے ہیں جو چھٹی صدی قبل از مسیح پرانے ہیں‘۔

بدھ مت کی تہذیبی روایات کے مطابق، ملکہ مایا دیوی نے جو کہ بُدھا کی والدہ تھیں، بُدھا کو لمبینی باغ میں جنم دیا تھا۔

لمبینی ایک ایسی جگہ ہے جسے بُدھا کی زندگی میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ بُدھا کی زندگی اور اہم علاقوں میں بودھ گایا بھی شامل ہے جہاں بدھا کو گیان حاصل ہوا تھا۔ سرناتھ وہ علاقہ ہے جہاں بُدھا نے اپنی تعلیمات کا پرچار شروع کیا اور کوسیناگارا وہ جگہ ہے جہاں بُدھا فوت ہوئے۔

لمبینی کو 1896ء میں دوبارہ دریافت کیا گیا اور ایک پرانے پتھر کی وجہ سے، جس پر 3 صدی قبل مسیح کُندا تھا، بدھا کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔ یہ پتھر ابھی بھی موجود ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بُدھا نے اپنی زندگی میں ہی اپنے پیروکاروں کو لمبینی آنے کی تلقین کی تھی۔ وفات کے وقت بُدھا کی عمر 80 برس تھی۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً نصف ارب آبادی بُدھ مت کی پیروکار ہے۔

XS
SM
MD
LG