رسائی کے لنکس

مصر کی ایک عدالت نے حال ہی میں تشکیل دی جانے والی اس 100 رکنی کمیٹی کو معطل کردیا ہے جسے مصر کے نئے آئین کی تدوین کرنا تھی۔

مصر کی اعلیٰ عدالت نے یہ فیصلہ وکلا اور روشن خیال سیاسی جماعتوں کی اپیلوں پر سنایا ہے جنہیں کمیٹی میں اسلام پسندوں کی اکثریت پر اعتراض تھا۔

مصر کے روشن خیال طبقوں کا کہنا ہے کہ مصر کی نئی پارلیمان نے، جس میں اسلام پسندوں کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہے، اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اسلام پسند اراکینِ پارلیمان اور ہم خیال شخصیات کو کمیٹی کا رکن نامزد کیا ہے۔

کمیٹی میں نامزد کیے جانے والے روشن خیال اور بائیں بازو کے کئی سیاست دان اور شخصیات نے پہلے ہی اسلام پسندوں کی اکثریت پہ تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کمیٹی کی کاروائی کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا۔

عدالت کے اس حکم سے مصر میں نئے آئین کی تیاری پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں جسے ملک میں نئی سول حکومت کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔

نئے آئین کی تیاری کا بنیادی مقصد نومنتخب پارلیمان اور صدر کے عہدے کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرنا ہے۔

اس سے قبل سابق صدر حسنی مبارک کے دور میں زیادہ تر اختیارات ان کے پاس تھے تاہم 'بہارِ عرب' کے سلسلے میں چلنے والے مقبول عوامی تحریک کے نتیجے میں انہیں گزشتہ برس اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔

فروری 2011ء کے سیاسی انقلاب کے بعد سے ملک کا انتظام مصر کی مسلح افواج کے سربراہان پر مشتمل ملٹری کونسل کے پاس ہے جسے اس ضمن میں فوجیوں ہی کی نامزد کردہ کابینہ کی مدد حاصل ہے۔

مصر کی گزشتہ کئی دہائیوں کی تاریخ میں فوج کا اہم سیاسی اور حکومتی معاملات پر تصرف رہا ہے اور امکان ہے کہ نئے آئین میں ملکی اور سیاسی معاملات میں فوج کا کردار محدود کردیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG