رسائی کے لنکس

مصر میں گرفتاریاں، اقوام متحدہ کی تشویش


بان کی مون

بان کی مون

’یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے، اور یہ کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں نہیں کہ وہ فوری طور پر، یکدم اقدام کرتے ہوئے امداد کے پروگرام میں ردو بدل کرے‘: وائٹ ہاؤس ترجمان

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے گذشتہ ہفتے مصر میں فوج کی طرف سے ملک کے پہلے منتخب صدر کو اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد، مصر میں شروع ہونے والی پکڑ دھکڑ اور اخوان المسلمین کے راہنماؤں اور دیگر افراد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر بان نے مصر کے وزیر خارجہ محمد کمال امر سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات واضح کی کہ، ’مصر میں انتقام لینے، کسی اہم سیاسی جماعت یا برادری کو الگ تھلگ رکھنےکی کوئی گنجائش نہیں‘۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ پیش رفت کے حصول کے لیےضروری ہے کہ پُرامن مکالمے کا آغاز ہو، جس میں مصر کے تمام سیاسی حلقوں کو نمائندگی دی جائے، اور اُنھوں نے مصری عوام کی امنگوں کی حمایت سے متعلق اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔

اخوان المسلمین کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تحریک برطرف کیے گئے صدر محمد مرسی کو اقتدار واپس کرنے کے اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوگی، لیکن اُس کا کہنا ہے کہ تحریک پُرامن ہوگی۔

گروپ نے جمعے کو پھر احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے، ساتھ ہی مرسی مخالف تحریک ’تمرد‘ نے مظاہرے کرنے کے لیے کہا ہے۔

بدھ کے روز، مصر کے عوامی استغاثے نے اخوان المسلمین کے راہنما محمد البرداعی اور چند دیگر سینئر اسلام پرستوں کی گرفتاری کے احکامات صادر کیے تھے، یہ کہتے ہوئے کہ اُنہی نے پیر کے روز ہونے والے تشدد کے واقعات کی شہ دی تھی، جب علی الصبح مرسی کے حامیوں اور فوج کے درمیان جھڑپیں واقع ہوئیں، جن میں قاہرہ میں 50سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان، جے کارنی نے بدھ کے روز کہا کہ یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور یہ کہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں نہیں کہ وہ ’فوری طور پر اور یکدم‘ اقدام کرتے ہوئے امدادی پروگرام میں کوئی ردو بدل کرے۔
XS
SM
MD
LG