رسائی کے لنکس

یورپی کمشنر کی تارکین وطن سے متعلق امور پر پاکستانی حکام سے ملاقات

  • عشرت سلیم

سرتاج عزیز یورپی کمشنر سے ملاقات کے بعد

سرتاج عزیز یورپی کمشنر سے ملاقات کے بعد

وزارت داخلہ سے جاری ایک بیان کے مطابق یورپی یونین کے کمشنر برائے مایئگریشن دمیترس اوراموپالس نے کہا کہ اُنھیں پاکستان کے تحفظات کا احساس ہے اور وہ مل کر ان تمام تحفظات کو دور کرنا چاہتے ہیں۔

یورپی یونین کے کمشنر برائے مائیگریشن پاکستانی حکام سےبات چیت کے لیے پیر کو اسلام آباد پہنچے۔

گزشتہ ہفتے پاکستان نے یورپ سے غیر قانونی تارکین وطن پاکستانیوں کی واپسی سے متعلق ایک معاہدے پر عمل درآمد روک دیا تھا، جس کے بعد اس دورے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی۔

دمیترس اوراموپالس نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد پہلے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز سے وزارت خارجہ میں ملاقات کی جس کے بعد وہ وزیر داخلہ چوہدری نثار سے ملے۔

وزارت داخلہ سے جاری ایک بیان کے مطابق یورپی یونین کے کمشنر برائے مایئگریشن دمیترس اوراموپالس نے کہا کہ اُنھیں پاکستان کے تحفظات کا احساس ہے اور وہ مل کر ان تمام تحفظات کو دور کرنا چاہتے ہیں۔

بیان کے مطابق اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی اور انسانی سمگلنگ کے ساتھ ساتھ ’اسلامو فوبیا‘ یعنی اسلام سے ڈر کا بھی مل کر مقابلہ کرنا ہو گا۔

یورپی یونین کے کمشنر نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ آئندہ پاکستان کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک واضح طریقہ کار کے تحت یورپ سے پاکستانی تارکین وطن کو واپس بھیجا جائے گا۔

پاکستان نے یورپ سے ملک بدر کیے جانے والے پاکستانیوں کو قبول کرنے سے ایسے وقت انکار کیا ہے جب یورپی حکام اپنی سرزمین پر بڑی تعداد میں روزگار کی تلاش میں غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے والے مہاجرین کو وطن واپس بھیجنے کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یورپی یونین کی ترجمان عائشہ بابر کے مطابق یورپی کمشنر برائے مائیگریشن دمترس اَوراموپالس کا یہ دورہ پہلے سے طے تھا۔

پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان 2009 میں غیر قانونی تارکین وطن کو پاکستان واپس بھیجنے سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے مگر گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ ملک بدر کیے گئے کسی شخص کو وزارتِ داخلہ کی اجازت اور پاکستانی سفری دستاویزات کے بغیر پاکستان لانے والی ائیر لائن کو بھاری جرمانہ کیا جائے گا۔

چوہدری نثار نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے الزام میں ملک بدر کیے گئے کسی پاکستانی کو بغیر ثبوت کے قبول نہیں کرے گا۔

اس موقع پر چوہدی نثار نے کہا تھا کہ وہ یورپی یونین کی پاکستان کے بارے میں پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں مگر تارکین وطن کے معاملے پر ان سے متفق نہیں۔

’’جہاں بھی میرے ملک کے لوگوں کے عزت نفس یا ان کے وقار یا ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہو گی تو یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں ناصرف آواز اٹھاؤں بلکہ اس کے لیے میں کوئی قدم بھی اٹھاؤں۔‘‘

پاکستان کی وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق گزشتہ سال دنیا بھر سے 90 ہزار پاکستانیوں کو مختلف وجوہات کی بنا پر وطن واپس بھیجا گیا مگر کچھ کیسوں میں اس بات کا واضح تعین نہیں کیا گیا کہ اُن پر کس نوعیت کے الزامات تھے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ گزشتہ سال کتنے افراد یورپ سے پاکستان بھیجے گئے مگر یہ تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔

افغانستان، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے جنگ زدہ علاقوں سے ہزاروں پناہ گزین یورپ کا رخ کر رہے ہیں جس سے یورپ میں بحران کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد داعش کے شدت پسندوں کی یورپ آمد کے خوف سے کچھ یورپی رہنماؤں نے پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے سخت قوانین کی حمایت کی ہے۔

پاکستان کی طرف سے ملک بدر کیے گئے افراد کو قبول کرنے سے انکار کے بعد روزگار کی تلاش میں یورپ آئے غیر قانونی تارکین وطن کو واپس وطن بھیجنے کا عمل سست روی کا شکار ہو سکتا ہے جس سے وہ افراد متاثر ہوں گے جنہیں حقیقتاً اپنے ملکوں میں ظلم و ستم کا سامنا ہے۔

XS
SM
MD
LG