رسائی کے لنکس

یورپ کو ’’یورو بحران‘‘ کا سامنا

  • سونجا پیس

یورپ کو ’’یورو بحران‘‘ کا سامنا

یورپ کو ’’یورو بحران‘‘ کا سامنا

یورپ کی کرنسی، یورو، جس کی عمر دس سال ہے، آج کل بحران سے دوچارہے۔ یوروکرنسی کے کچھ ملکوں پر بے تحاشا قرض کا بوجھ ہے اوردوسرے ملکوں کو ان کے قرضوں کی ضمانتیں دینی پڑ رہی ہیں تا کہ وہ نادہندگی سے بچ جائیں اور یورپ کی مشترکہ کرنسی کو سہارا مِل جائے

یورپ کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت، جرمنی نے بیشتر قرضوں کی ضمانتیں دی ہیں۔ بہت سے جرمن اس بات پر ناخوش ہیں کہ انہیں یونان جیسے ملکوں کو، جو سوچے سمجھے بغیر اپنے اخراجات بڑھاتے رہے ہیں ، دیوالیہ ہونے سے بچانا پڑ رہا ہے۔

یورپ پر اقتصادی بحران کے بادل چھا رہے ہیں، اور سب سے بڑی اور اقتصادی طور پر مضبوط معیشتوں والے ملک بھی ان کی زد میں ہیں۔ جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد، پہلی بار کفایت شعاری کا اتنا سخت منصوبہ اپنایا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کا سرکاری قرضہ یورپی یونین کی دی ہوئی حدود کے اندر آ جائے اور دوسرے ملکوں کو بھی اسی قسم کے اقدامات کی ترغیب ہو اور اس طرح یورو مستحکم ہو جائے۔

برلن اسٹاک ایکسچینج کے سربراہ ارتور فیسچر کہتے ہیں کہ اخراجات کم کرنے کے اس منصوبے سے منڈیوں میں ٹھہراؤ آگیا ہے’’چھوٹی رقوم کی سرمایہ کاری کرنے والے عام لوگوں کو احساس ہو گیا ہے کہ صورتِ حال کو درست کرنے کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کیے گئے ہیں۔ بڑے سرمایہ کار یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ اب اہم اور صحیح سمت میں اقدامات کیے جا رہے ہیں‘‘۔

یورو کے استحکام کے بارے میں منڈیاں مہینوں سے اضطراب کا شکار تھیں۔ اُس بحران کا آغاز اس طرح ہوا کہ یونان کی حکومت اپنے قرضوں کی ادائیگی کرنے کے قابل نہ رہی۔ جلد ہی یہ خوف پھیل گیا کہ شاید یونان کو نادہندہ ملک قرار دے دیا جائے اور سارا یورو زون اس بحران کی لپیٹ میں آجائے۔ جرمنی نے یونان کو اس مشکل سے نکالنے کے لیے قرض کی ضمانت کا پیکیج فراہم کیا، لیکن اس کے عوض، یونان کو سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات کرنے پڑے ہیں جو عوام میں بالکل مقبول نہیں ہیں۔

یونان کو بحران سے نکالنے کے یہ اقدامات جرمنی میں بھی مقبول نہیں ہوئے۔ وہاں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ حکومت ان سے ایسے ملک کی مدد کے لیے کہہ رہی ہے جس نے اپنی بساط سے زیادہ خرچ کر ڈالا ہے۔

لیکن برلن اسٹاک ایکسینج کے سربراہ ارتور فیسچر کہتے ہیں کہ اصل بات کچھ اور ہے.’’فرض کیجیئے کہ ہم یونان کو دیوالیہ ہو جانے دیتے۔ تو پھر چونکہ ان کا سارا قرض یوروز میں ہے اس لیے نقصان ان کو ہوتا جنھوں نے انہیں قرض دیا تھا۔ اور قرض کس نے دیا تھا؟ ان میں کافی جرمن بنک شامل تھے۔ تو اگر یونان اپنا قرض ادا نہ کر سکتا، تو اس کے نتیجے میں ، یورپ کے بہت سے بنکوں اور خاص طور سے جرمن بنکوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو جاتا‘‘۔

اس کے بعد، یورپ کے بعض بڑے اقتصادی اداروں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے قرضوں کی ضمانت کا ایک ٹریلین ڈالر کا ایک اور منصوبہ تیار کر لیا ہے تا کہ یورپ کی بعض دوسری کمزور معیشتوں کو سہارا مِل سکے۔

لیکن تاریخ دان اور با اثر جرمن اخبار ڈائی ویلٹ کے سیاسی نامہ نگار مائیکل سٹیورمر کا خیال ہے کہ یہ اقدامات دانشمندی پر مبنی نہیں۔ انہیں شبہ ہے کہ یورو کو طویل عرصے تک قائم رکھا جا سکے گا ۔ ان کے خیال میں یورو کرنسی زون کا ٹوٹ جانا بالکل ممکن ہے.’’یورو سسٹم میں شامل بعض ملک جو اقتصادی طور پر مضبوط ہیں اور جن میں جرمنی سر فہرست ہے، کہنے لگیں گے کہ بس اب بہت ہو چکا۔ آپ کو بچانے کے لیے پہلے ہمیں اپنی فکر کرنا ہوگی۔ ہم اپنی رکنیت ختم کرتے ہیں اور ہم شمالی یورپ کے فرینک یا گلڈریا کسی اورسسٹم میں جو ٹھوس اور اچھا محسوس ہو شامل ہو جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یورو زون کا جنوبی حصہ منتشر ہو جائے گا‘‘۔

بہت سے تجزیہ کاروں نے یورو سسٹم میں بعض بنیادی خامیوں کی نشاندہی کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یورو زون کے ملکوں کے درمیان کرنسی تو مشترک ہے لیکن انفرادی ملکوں کے بجٹ اور سرکاری اخراجات میں کسی دوسرے ملک کا کوئی دخل نہیں۔

تا ہم یورو اور یورپی یونین کے بارے میں سب لوگ اتنے مایوس نہیں۔ ارتور فیسچر کو یقین ہے کہ یورو کرنسی کا نظام باقی رہے گا۔ ’’آج ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، ہمیں اس کا پہلے سے اندازہ تھا۔ جب یورو زون اور یورو کو شروع کیا گیا تو ہم سب جانتے تھے کہ ہماری معیشتوں کی رفتار اوران کی صلاحیتیں مختلف ہیں ۔ آج ہم ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں چند ملک اقتصادی اعتبار سے مضبوط ہیں اور دوسرے ملک کمزور ہیں۔ ہم کمزور ملکوں کی مدد کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسا وقت بھی آ سکتا ہے کہ یہ کمزور ملک دوسروں کی مدد کے قابل ہو جائیں‘‘۔

یورو پر آج کل شدید دباؤ میں ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ نظام ختم ہو جائے گا جب کہ بعض دوسرے لوگ سمجھتے ہیں کہ اس مشترکہ کرنسی اور یورپ کے سیاسی بندھنوں سے اتنے زیادہ فوائد حاصل ہوئے ہیں کہ ان کے خاتمےکا کوئی امکان نہیں۔

XS
SM
MD
LG