رسائی کے لنکس

کیا متحدہ عرب امارات میں سیلابی صورتِ حال مصنوعی بارش کا نتیجہ ہے؟


  • متحدہ عرب امارات میں حالیہ شدید بارشیں کلاؤڈ سیڈنگ کا نتیجہ نہیں تھیں، ماہرین
  • کلاؤڈ سیڈنگ سے کم درجے کی بارش ممکن ہے، طوفان لانا خارج از امکان ہے، ماہرین
  • حالیہ شدید بارشیں موسمیاتی تبدیلی کی جانب اشارہ کرتی ہیں، موسمیاتی ماہرین

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہونے والی حالیہ طوفانی بارشوں سے متعلق ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ مصنوعی طریقہ کار سے بارش تو ہوتی ہے لیکن اس قدر نہیں کہ سیلابی صورتِ حال پیدا ہوجائے۔

یو اے ای کی ساتوں ریاستوں میں منگل کو ہونے والی ریکارڈ بارشوں نے نظام زندگی مفلوج کر دیا تھا جس کے بعد سوشل میڈیا پر تبصرے کیے جا رہے تھے کہ یہ بارشیں کلاؤڈ سیڈنگ یعنی مصنوعی بارشوں کا نتیجہ ہیں۔

یو اے ای کچھ عرصے سے مصنوعی بارش کی کوششیں کرتا آ رہا ہے جہاں سالانہ اوسطاً محض چار سے پانچ انچ بارش برستی ہے۔ تاہم دو روز کے دوران ہونے والی بارشیں سالانہ برسنے والی بارشوں کے برابر تھی۔

مصنوعی بارش کا طریقہ دہائیوں سے استعمال ہو رہا ہے لیکن ابھی تک ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا جیسا منگل کے روز متحدہ عرب امارات میں دیکھنے میں آیا ہے۔

نجی ماہر موسمیات اور امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے سابق چیف سائنس دان ریان ماؤ نے خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پرس' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یو اے ای میں ہونے والی بارش قطعی طور پر مصنوعی بارش نہیں تھی۔

ان کے بقول، ’’اگر ایسا مصنوعی بارش سے ہوسکتا، تو ان کے پاس ہر وقت پانی دستیاب ہوتا۔ خالی ہوا سے اوسط چھ انچ پانی نہیں نکالا جاسکتا۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ کلاؤڈ سیڈنگ کے ذریعے اس قدر بارش ہونا سائنسی طور پر ناممکن ہے۔

ماہرین موسمیات اور کلائمیٹ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یو اے ای میں ہونے والی شدید بارش کے پیچھے موسمیاتی تبدیلی کار فرما ہے کیوں کہ بارش کے بارے میں کئی روز پہلے ہی پیش گوئی کر دی گئی تھی۔

ماحولیاتی سائنس کے محقق ٹومر برگ کے مطابق چھ روز قبل ہی پیش گوئی کی جا چکی تھی کہ یو اے ای میں کئی انچ بارش ہونے کا امکان ہے۔ متحدہ عرب امارات میں سال بھر میں اتنی بارش ہوتی ہے۔

امپریل کالج آف لندن کے کلائمیٹ سائنس دان فریڈریک اوٹو کہتے ہیں جب ہم شدید بارش کی بات کرتے ہیں، تو ہم موسمیاتی تبدیلی کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں مصنوعی بارش پر توجہ دینا مغالطہ ہے۔

فریڈرک ایک ایسی ماہرین کی ٹیم کی قیادت کرتے ہیں جو تجزیہ کرتی ہے کہ ایسے شدید موسمیاتی واقعات کی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے یا نہیں۔ ان کے بقول، "موسم کے گرم تر ہونے کی وجہ سے بارشیں بھی شدید ہوتی جا رہی ہیں، کیوں کہ کہ زیادہ گرم موسم میں نمی بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔"

مصنوعی بارش ہے کیا؟

بادلوں کو پانی کے باریک قطرے یا برف کے ذرات کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ اپنی نمی کو بارش میں بدل سکیں۔ ان باریک قطروں یا ذروں کو نیوکلائی کہا جاتا ہے۔

موسم کو مصنوعی طور پر تبدیل کرنے کے طریقہ کار میں ہوائی جہازوں یا زمین پر توپوں کے ذریعے ایسے ذرات بادلوں میں پھینکے جاتے ہیں جو نیوکلائی بنا سکیں۔ اس سے مزید نمی اس نیوکلیائی کے گرد جمع ہوتی ہے جو بارش یا برف کی صورت میں زمین پر گرتی ہے۔

گزشتہ صدی کی چالیس کی دہائی میں اس طریقہ کار پر کام کیا گیا تھا اور ساٹھ کی دہائی میں یہ امریکہ کے مغرب میں مقبول ہوا تھا جہاں اسے برف باری کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس طریقہ کار کے ذریعے خالی آسمان سے بارش برسائی نہیں جا سکتی۔ یہ ذرات گہرے بادلوں میں پھینکے جاتے ہیں تاکہ وہ برسنا شروع ہوجائیں، یا جس قدر وہ قدرتی طور پر برستے ہیں، اس سے زیادہ بارش ہو۔

مصنوعی بارش کس قدر مؤثر ہے؟

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ حالیہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مصنوعی بارش کا طریقہ کام کرتا ہے۔ لیکن یہ کس قدر موثر ہے، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا۔

سائنس دانوں کے مطابق کاغذی طور پر کلاؤڈ سیڈنگ کے طریقۂ کار کی سمجھ آتی ہے۔ لیکن اس طریقے سے بارش اس قدر کم ہوتی ہے کہ سائنس دانوں میں اس بات پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا کہ یہ واقعی کام بھی کرتا ہے یا نہیں۔

ماؤ کا کہنا کہ ہماری فضا کی متنوع قوتیں اپنے حجم میں اس قدر وسیع ہیں اور اس قدر بدنظمی کا شکار ہیں کہ مصنوعی بارش کا طریقہ کار تکنیکی طور پر بہت ہی چھوٹے پیمانے پر اثر انداز ہوتا ہے۔

یو اے ای میں ہونے والی بارشوں سے متعلق سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ مصنوعی بارش کے طریقۂ کار کا اثر اگر ہوا بھی ہے، تو بہت معمولی ہوگا۔

مصنوعی بارش کا طریقہ کار کہاں استمعال ہوا ہے؟

اگرچہ اس طریقہ کار کے مؤثر ہونے کے ابھی تک ثبوت نہیں ملے لیکن خشک سالی کے شکار متحدہ عرب امارات اور امریکہ کی مغربی ریاستیں ایسی ٹیکنالوجیوں پر سرمایہ کاری کرتی رہتی ہیں جن میں کلاؤڈ سیڈنگ بھی شامل ہے تاکہ کچھ حد تک ہی سہی، بارش ہوسکے۔

امریکی ریاست یوٹا کے ریاستی ڈویژن فار واٹر ریسورسز کے ایک تجزیے میں تخمینہ لگایا گیا کہ 2018 میں کلاؤڈ سیڈنگ کے طریقہ کار سے اس کے پانی کے ذخیرے میں 12 فی صد اضافہ ہوا۔ اس تجزیے میں جو تخمینے استعمال کیے گئے وہ کلاؤڈ سیڈنگ کرنے والے ٹھیکے داروں کی جانب سے فراہم کیے گئے تھے۔

ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درجنوں ممالک نے بھی یہ طریقہ کار استعمال کیا ہے۔

امریکی ریکلیمیشن بیورو نے گزشتہ برس خشک ہوتے دریائے کولاراڈو کے گرد کلاؤڈ سیڈنگ کے لیے چوبیس لاکھ ڈالر مختص کیے تھے۔ جب کہ ریاست یوٹا نے اپنے کلاؤڈ سیڈنگ کے بجٹ کو دس گنا بڑھایا ہے۔

تو پھر اتنے بڑے طوفان کی کیا وجہ بنی؟

ماہرِ موسمیات ماؤ کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے اس حصے میں زیادہ طوفان نہیں آتے۔ لیکن جب آتے ہیں تو پھر شدید بارشیں لاتے ہیں۔

یونی ورسٹی آف ریڈنگ کی موسمیات کی پروفیسر سوزین گرے کا کہنا تھا کہ اس طرح کے سمندری طوفان مشرقِ وسطیٰ میں نئے نہیں ہیں۔

انہوں نے ایک حالیہ تحقیق کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سن 2000 سے 2020 تک خلیج عرب کے جنوب میں ایسے سو طوفان آچکے ہیں جن میں سے زیادہ تر مارچ یا اپریل کے مہینے میں آئے۔ ان میں مارچ 2016 کا ایک طوفان بھی شامل ہے جس سے دبئی پر اوسط 9.4 انچ بارش چند گھنٹوں میں برسی تھی۔

ایسے ہی 2021 کی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ جنوبی خلیج عرب کے علاقے میں ایسے شدید طوفانوں میں قابل ذکر اضافہ پایا گیا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گرم ہوتے ہوئے موسم میں ایسے واقعات زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ کلاؤڈ سیڈنگ کچھ حد تک کامیاب ہے لیکن اس سے بڑے طوفان لانا خارج از امکان ہے۔

اس خبر کے لیے مواد خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے لیا گیا۔

فورم

XS
SM
MD
LG