رسائی کے لنکس

یونانی قدامت پسند ، مولولا سلسلے کے سربراہ نے حکومت کے حامی گروہوں کی طرف سے جاری کی گئی اِن خبروں کی تردید کی ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ باغیوں نے قصبے کے متبرک عیسائی مقامات کو مسمار کردیا ہے

شام میں لڑائی میں کمی کے آثار معدوم ہوتے جارہے ہیں، ایسے میں جب پیر کو دمشق، حمص اور حلب کے مضافات میں حکومت شام کی فوجیں باغیوں کے ساتھ پُر تشدد کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شوقیہ طور پر بنائی گئی ایک وڈیو میں اسلام پسند مسلح افراد کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ وہ لبنانی سرحد کے قریب، حکمت عملی کی اہمیت کے حامل مولولا کے عیسائی قصبے سے پسپہ ہو رہے ہیں، ایسے میں جب شامی حکومت کی افواج نے قصبے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے شدید کارروائی کی ہے۔

مسلح افراد کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے قصبے کے اندر ایک فوجی چوکی پر قبضہ جمانے کا اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے، جو شام کے دو قدیمی راہبوں کی قانقاہوں کے باعث مشہور ہے، جہاں کے متعدد باشندے اب بھی سامی نسل کی آرامی زبان بولتے ہیں۔

یونانی قدامت پسند ،مولولا سلسلے کے سربراہ نے حکومت کے حامی گروہوں کی طرف سے جاری کی گئی اِن خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ باغیوں نے قصبے کے متبرک عیسائی مقامات کو مسمار کردیا ہے۔

دریں اثنا، حکومتی افواج نے باغیوں کے قبضے میں دمشق کے مضافاتی علاقوں پر بھاری توب خانے سے گولے برسائے، جن میں مدیامیہ کا قصبہ بھی شامل ہے، جہاں 21اگست کو کیمیائی ہتھیاروں کا مبینہ حملہ ہوا تھا۔

ادھر حلب کے باہر باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

یہ علاقہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ واقع ہے اور شہر کو حکومتی علاقے سے ملانے والے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہائی وے سے جُڑا ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری اس لڑائی میں حکومتی فوجوں نے اس سڑک کے کچھ حصوں پر دوبارہ قبضہ جما لیا ہے۔
XS
SM
MD
LG