رسائی کے لنکس

عبداللہ حسین ہارون کا کہنا تھا کہ سندھ لٹریچر فیسٹیول صوفی شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کے لئے اچھا پلیٹ فارم ہے۔ شاہ لطیف کی شاعری اپنی زبان اور بیان میں ’مہابھارت‘ سے کم نہیں

سندھ کی خوبصورت اور رنگارنگ ثقافت کے رنگوں سے سجا پہلا سندھ لٹریچر فیسٹیول تین دنوں تک اپنی رونقیں بکھیرنے کے بعد کراچی میں اتوار کو ختم ہوگیا۔

فیسٹیول کی اہم بات یہ بھی تھی کہ اس میں کراچی میں تعینات امریکی قونصل جنرل گریس ڈبلیو شیلٹن نے بھی شرکت کی اور فیسٹول کی سرگرمیوں سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہوئیں۔

قونصل جنرل گریس نے فیسٹول میں لگائے گئے امریکی قونصل خانے کے بوتھ کا دورہ بھی کیا اور وہاں موجود لوگوں سے گھل مل گئیں۔ تین روزہ سندھ لٹریچر فیسٹول کا آغاز جمعہ کو معروف صوفی گلوکارہ عابدہ پروین نے سندھ لٹریچر فیسٹول کے چیئرمین عبداللہ حسین ہارون کے ساتھ ربن کاٹ کر کیا۔

عبداللہ حسین ہارون کا کہنا تھا کہ سندھ لٹریچر فیسٹیول صوفی شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کے لئے اچھا پلیٹ فارم ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ شاہ لطیف کی شاعری اپنی زبان اور بیان میں ’مہابھارت‘ سے کم نہیں۔

فیسٹول میں عابدہ پروین کی میوزک آرٹسٹ میوہ خان، شاہد خان اور استاد ام جوگی کے ساتھ لائیو پرفارمنس نے سماں باندھ دیا اور شائقین بے اختیار جھومنے پر مجبور ہوئے۔

سندھ لٹریچر فیسٹول آرگنائز کرنے والی تنظیم ’وجدان‘ کا کہنا ہے کہ وہ ہر سال فیسٹیول منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ فیسٹول میں سندھی ادب کے ساتھ ساتھ اردو، سرائیکی، بلوچی، انگریزی زبانوں کے ادب کو بھی جگہ دی جائے گی کیونکہ سندھ ملٹی کلچرل سر زمین ہے۔

پہلے سندھ لٹریچر فیسٹیول میں سندھی ادب کی کتابوں کے علاوہ سندھ کی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے پینٹنگز، روایتی کھانوں، مقامی دست کاری، اجرک اور سندھی ملبوسات کے اسٹالز بھی لگائے گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG