رسائی کے لنکس

یمن: اقتدار پر حوثیوں کا قبضہ، خلیجی ممالک کی مذمت


فائل

فائل

تاہم، ہفتے کے روز اپنے خطاب میں، باغی لیڈر عبدالمالک الحوثی نے اقتدار سنبھالنے کا دفاع کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے سیاسی ’خلا‘ کو پُر کیا گیا ہے، اور یہ بات یمنی عوام کے عین مفاد میں ہے

یمن کے خلیجی ہمساؤں نے شیعہ باغیوں کی جانب سے ملکی اقتدار سنبھالنے کی مذمت کرتے ہوئے، اِسے’بغاوت‘ قرار دیا ہے، ایسے میں جب ہزاروں یمنی اقتدار پر تسلط پر احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔

چھ رکنی خلیج تعاون تنظیم (جی سی سی)، جس کی قیادت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سنی رہنما کرتے ہیں، حوثی باغیوں کی کارروائی کو ’باغیانہ سرگرمی‘ قرار دیا؛ اور کہا ہے کہ ’کشیدگی میں لائی گئی شدت‘ ناقابل برداشت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس سے ملک کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔

تاہم، ہفتے کے روز اپنے خطاب میں، باغی لیڈر عبدالمالک الحوثی نے اقتدار سنبھالنے کا دفاع کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اس سے سیاسی ’خلا‘ کو پُر کیا گیا ہے، اور یہ بات یمنی عوام کے عین مفاد میں ہے۔

یمن کے متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے علاوہ، ہفتے کو ملک کے دارالحکومت صنعاٴمیں صدارتی محل کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم تین افراد زخمی ہوئے۔
حوثی ملیشیا نے جمعے کو پارلیمان تحلیل کردیا اور اِس سنی اکثریت والے ملک کی قیادت سنبھالنے کا اعلان کیا۔ یمن جزیرہ نما عرب میں سعودی عرب کے جنوب میں واقع ہے۔

ایک ٹیلی ویژن بیان میں، حوثیوں نے کہا کہ وہ پارلیمان کی جگہ ایک 551 رکنی قومی اسمبلی تشکیل دیں گے، جو دو برس تک ملک کا انتظام سنبھالنے کے لیے ایک پانچ رکنی صدارتی کونسل کا انتخاب کرے گی۔

ستمبر میں، حوثیوں نے صنعاٴپر دھاوا بول دیا اور گذشتہ ماہ صدارتی محل پر قبضہ کر لیا تھا، اور امریکی حمایت یافتہ صدر عبد ربو منصور ہادی اور اُن کی کابینہ مستعفی ہوگئی تھی۔

امریکہ نے جمعے کے روز حوثی منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یمن کے سیاسی بحران کے حل کے سلسلے میں، آبادی کی بنیاد کا معیار پورا نہیں ہوتا۔

کئی ماہ سے جاری سیاسی کشیدگی نے یمن کو بھونچال کی طرف دھکیل دیا ہے۔ یمن میں موجود القاعدہ کی شاخ کی شدت پسندانہ سرگرمیوں کے نتیجے میں، ملک پہلے ہی عدم استحکام کا شکار ہے۔

نیویارک میں، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ’یمن میں طاقت کے خلاٴ‘ کے معاملے پر عالمی ادارے کے سربراہ کو شدید تشویش لاحق ہے۔

بدھ کے روز حوثیوں اور یمن کی تمام سیاسی جماعتوں کے مابین ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔

سیاسی بحران کے باوجود، امریکی صدر براک اوباما نے اِس بات کا عہد کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی جاری کارروائیوں میں کوئی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ امریکہ یمن کے اندر اہم سرغنوں اور اہداف کا پیچھا کرتا رہے گا۔


القاعدہ کی یمن کی شاخ نے، جسے جزیرہ نما عرب کی القاعدہ بھی کہا جاتا ہے، اسی ہفتے کہا تھا کہ ملک کے جنوب میں ہونے والے امریکی فضائی حملے میں القاعدہ کے ایک چوٹی کے کمانڈر، حارث النادری ہلاک ہوئے۔

XS
SM
MD
LG