رسائی کے لنکس

گنی میں سیاسی محاذ آرائی کے دوران 'یومِ مفاہمت'


گنی میں سیاسی محاذ آرائی کے دوران 'یومِ مفاہمت'

گنی میں سیاسی محاذ آرائی کے دوران 'یومِ مفاہمت'

دو برس قبل جمہوریت پسند مظاہرین پر سرکاری فورسز کے خونی کریک ڈاؤن کی یاد میں افریقی ملک گنی کے عوام صدر ایلفا کونڈے کی اپیل پر بدھ کو "یومِ مفاہمت" منارہے ہیں۔

صدر کونڈے نے یہ دن منانے کی اپیل ان 150 افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے کی ہے جو 2009ء میں ملک کے سابق فوجی حکمرانوں کے خلاف ہونے والے ایک مظاہرے پر سرکاری فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ایک اسٹیڈیم میں ہونے والے اس مظاہرے میں شریک 100 سے زائد خواتین کو کریک ڈاؤن کے دوران مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔

گزشتہ روز انسانی حقوق کی عالمی تنظیم 'ہیومن رائٹس واچ' نے کہا تھا کہ گنی کی موجودہ حکومت قتلِ عام کا شکار ہونے والے افراد کو انصاف دلانے میں ناکام رہی ہے۔

تنظیم کے بیان کے مطابق "28 ستمبر کو 'یومِ مفاہمت' قرار دینے سے گنی کے حکام سانحہ کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کی اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہوجاتے"۔

'یومِ مفاہمت' سے ایک روز قبل دارالحکومت کوناکرے میں حکومت مخالف مظاہرین اور سکیورٹی فورسز میں ہونے والے تصادم میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

منگل کو ہونے والا تصادم اس وقت شروع ہوا جب نیم فوجی دستوں نے حزبِ مخالف سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کو احتجاج کے لیے جمع ہونے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ مظاہرین صدر کونڈے کی جانب سے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کی مبینہ کوششوں کے خلاف احتجاج کرنا چاہ رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق اسلحے اور ڈنڈوں سے لیس سکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کے شیل برسائے اور براہِ راست فائرنگ کی جس کی زد میں آکر کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے۔

حکام کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ سے 23 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

ایلفا کونڈے نے گزشتہ برس ہونےوالے ملکی تاریخ کے پہلے جمہوری انتخابات کے بعد دسمبر میں عہدہ صدارت سنبھالا تھا۔ 1958ء میں آزادی حاصل کرنے والے گنی کے آئندہ پارلیمانی انتخابات رواں برس کے اختتام پر ہونے ہیں۔

XS
SM
MD
LG