رسائی کے لنکس

ہیٹی: وبا ئیں پھوٹ پڑنے کا خدشہ

  • لیزا شلائین

زلزلہ زدگام، عارضی پڑاؤ

زلزلہ زدگام، عارضی پڑاؤ

اقوامِ متحدہ کےادارے اور ہیٹی کی حکومت اگلےہفتے سےپانچ برس سےکم عمر کے ہزاروں بچوں کو خسرے، تشنج اور کالی کھانسی کے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم کا آغاز کریں گے

عالمی ادارہٴ صحت نے کہا ہے کہ اُسے ہیٹی میں وبائیں پھوٹ پڑنے اور امراض میں اضافے کے بارے میں تشویش ہے۔

ادارے کے مطابق اب لوگوں کے اسہال، ہیضے اور آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والے امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، کیونکہ ملک میں صفائی کی صورتِ حال دگرگوں ہے۔

ادارے نے بتایا کہ خسرے جیسے متعدی امراض پُر ہجوم کیمپوں میں تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔

عالمی ادارہٴ صحت کے ترجمان پال گارووڈ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے ادارے اور ہیٹی کی حکومت اگلے ہفتے سے پانچ برس سے کم عمر کے ہزاروں بچوں کو خسرے، تشنج اور کالی کھانسی کے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم کا آغاز کریں گے۔

گارووڈ کہتے ہیں کہ عالمی ادارہٴ صحت اور دوسرے امدادی ادارے وباؤں کی روک تھام کے لیے مزید اقدام کریں گے۔


اُن کے بقول، ہم اِس امر کو ملحوظ رکھے ہوئے ہیں کہ برسات اور طوفانی موسم کا آغاز ہونے والا ہے۔ اِس کے جواب میں ہر ممکن اقدام کیا جارہا ہے اور یونیسیف جیسے حلیف ادارں کے ساتھ چل کر کام کا آغاز ہو رہا ہے۔

لوگوں کی بڑی تعداد میں صاف پانی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صفائی اور حفظانِ صحت کے تقاضوں کو بھی پورا کیا جائے، خاص طور پر ایسے مقامات پر جہاں لوگ عارضی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ پھر ممکنہ وبائی امراض کے پھوٹ پڑنے کی علامتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جِس کے نتیجے میں بیماری پر جلد کنٹرول کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔

گارووڈ کا کہنا ہے کہ سرجنوں کی بے حد ضرورت ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہیٹی میں زلزلے کے بعد دو ہزار سے زائد ایسے کیس ہیں جِن کے زخمی ٹانگوں یا بازوؤں کو کاٹنا ضروری ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اِس وقت روزانہ 30سے 100تک مریضوں کے آپریشن کیے جارہے ہیں اور امکان یہی ہے کہ ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

گارووڈ کا کہنا ہے کہ اب خوف و ہراس میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد میں کمی ہورہی ہے لیکن ذہنی صحت سے ملقی امراض میں اضافہ ہوا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ عالمی ادارہٴ صحت کے ذہنی ماہرین آنے والےدِنوں میں ہیٹی پہنچں گے تاکہ لوگوں کی ذہنی صحت اور زلزلے کے اثرات سے متاثرہ افراد کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG