رسائی کے لنکس

کانگریس میں فوجی کارروائی کو پاکستان تک بڑھانے کی بحث زور پکڑ رہی ہے

  • شہناز نفیس

کانگریس میں فوجی کارروائی کو پاکستان تک بڑھانے کی بحث زور پکڑ رہی ہے

کانگریس میں فوجی کارروائی کو پاکستان تک بڑھانے کی بحث زور پکڑ رہی ہے

حزبِ اختلاف کی ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹر لِنڈسے گراہم نے اِس ہفتے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی فوج کے تحفظ کی خاطر، امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کے علاوہ بھی دیگر آپشنز بروئے کار لانے چاہئیں

دہشت گرد گروپ، حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کے بارے میں امریکہ اور پاکستان میں اختلافات کے بعد جہاں پاکستان میں سیاسی و عسکری سطح پر بحث چھڑی ہوئی ہے، وہاں امریکی کانگریس میں بھی اِس کی بازگشت سنائی دی جانے لگی ہے اور فوجی کارروائی کو پاکستان تک بڑھانے کی بحث زور پکڑ رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکی جوائنٹ چیفز آف اسٹاف کمیٹی کے چیرمین مائیک ملن نے افغانستان میں امریکی اہداف پر حالیہ حملوں کے لیے حقانی نیٹ ورک پر الزام لگایا تھا اور واشگاف الفاظ میں اس نیٹ ورک کو پاکستان کی آئی ایس آئی کا آلہٴ کار قرار دیا تھا۔

پاکستان اِس الزام کی برابر تردید کرتا رہا ہے۔اسلام آباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل پاشا نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کو ایکسپورٹ کرنا نہیں چاہتا اور یہ کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی حمایت نہیں کرتا۔

حزبِ اختلاف کی ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹر لِنڈسے گراہم نے اِس ہفتے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکی فوج کے تحفظ کی خاطر، امریکہ کو پاکستان میں ڈرون حملوں کے علاوہ بھی دیگر آپشنز بروئے کار لانے چاہئیں۔

اِس سوال کے جواب میں کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے علاوہ کونسے آپشنز زیرِ غور ہیں، ریپبلیکن پارٹی کے ایم جے خان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ امریکہ کے خیال میں حقانی گروپ کو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا اگر براہِ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر تعاون حاصل ہے، اور اِس نیٹ ورک کا قلع قمع کرنے کے لیے امریکہ کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان کے خلاف نہیں، بلکہ اِس خاص گروپ، حقانی نیٹ ورک کے خلاف ہوگی جو ابھی زیرِ غور ہے۔

دوسری جانب، حکمراں جماعت ڈیموکریٹز سے تعلق رکھنے والے شاہد احمد خان نے’ وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ حزبِ اختلاف کی جماعت ریپبلیکن پارٹی کی جانب سے ایسے بیانات کو محض سیاسی گیم کا ایک حصہ قرار دیا جانا چاہیئے اور متنبہ کیا کہ ایسے بیانات سے دونوں ملکوں میں اشتعال انگیزی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اِس لیے ، ریپبلیکن پارٹی کو ایسے بیانات سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ کسی ملک پر حملے کرنے یا فوجی کارروائی کو وسعت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

تاہم، شاہد احمد خان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے لیے یہ حیرت اور تشویش کی بات ضرور ہے کہ تین یا چار ہزار افراد پر مشتمل یہ گروپ ایک ہزار میل دور جاکر کس طرح کامیاب حملے کر سکتا ہے اور راستے میں قائم چیک پوائنز اپنی ذمہ داریاں کہاں تک نبھا رہی ہیں۔

ریپبلیکن پارٹی کے ایم جے خان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلےکہ پاک امریکہ تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہوں، دونوں ملکوں کے راہنماؤں کو اِس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا، جِس کے تحت، پاکستان کے جائز خدشات کو دور کیا جائے اور علاقے میں امریکی مشن کی کامیابی کے لیے پاکستان بھی خلوصِ دل سے مدد کرے۔

ایم جے خان کے مطابق، اگر حالات زیادہ خراب ہوگئے تو امریکہ کی طرف سے پاکستان کے خلاف کسی بھی کارروائی کا جواب ممکن تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ علاقے کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا، کیونکہ اُن کے مطابق، امریکی فوج کا مقابلہ پاکستان کی فوجی طاقت نہیں کر سکے گی۔

اُدھر، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کے دِن اسلام آباد میں بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید کارروائی کے لیے پاکستان پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا۔

اُنھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ نے جو الزامات لگائے ہیں وہ اِس پسِ منظر میں نہایت حیرت انگیز ہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں اور کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے قومی مفادات کا احترام کیا جانا چاہیئے۔ تاہم، اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ تبادلہٴ خیال کے لیے پاکستان کے دروازے بدستور کھلے ہوئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بھی بدھ کے دِن ایڈمرل مائیک ملن کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مدد کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ باہمی تلخیوں اور بدگمانیوں کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ غیر ضروری بیانات سے گریز کیا جائے اور مسائل کے حل کے لیے سفارتی طریقہٴ کار اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اُن کے مطابق، امریکہ پاکستان اور افغانستان تینوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ علاقائی سلامتی اور امن کے مقصد کی خاطر اتفاقِ رائے سے کام لیں اور باہمی احترام کا راستہ اپنائیں۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG