رسائی کے لنکس

الاسکا سے تعلق رکھنے والے خاندان کا سات ماہ کا شیر خوار بچہ لنکن سی 'ہیٹرو ٹیکسی سینڈروم' میں مبتلا تھا۔ اس غیر معمولی بیماری کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کا دل سینے میں بائیں کی بجائے دائیں جانب ہوتا ہے۔

جدید سائنس کی دنیا میں حقیقی معجزات رونما ہونے لگے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ امریکہ کی ریاست سیاٹل میں پیش آیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے پیدائشی طور پر دل کے نقص کے ساتھ پیدا ہونے والے ایک ایسے بچے میں دل کی پیوند کاری کی ہے جس کے دل کی دھڑکنیں تھم گئی تھیں۔

الاسکا سے تعلق رکھنے والے خاندان کا سات ماہ کا شیر خوار بچہ لنکن سی 'ہیٹرو ٹیکسی سینڈروم' میں مبتلا تھا۔ اس غیر معمولی بیماری کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کا دل سینے میں بائیں کی بجائے دائیں جانب ہوتا ہے۔

اس کی سانسیں رک رک کر چلتی تھیں اور حرکت قلب دو مرتبہ رکی تھی۔ وہ بس ایک بجھتے ہوئے چراغ کی مانند تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے کیونکہ ڈاکٹروں نے اب سات ماہ کے لنکن سی کو ایک عطیہ شدہ دل لگا دیا ہے اور اس بڑے آپریشن کے بعد لنکن اب معمول کی سانسیں لے سکتا ہے۔

امریکی ریاست واشنگٹن کے سیاٹل چلڈرن اسپتال کے ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن سے منسلک سرجنوں کی ٹیم کے لیے یہ آپریشن آسان نہیں تھا کیونکہ بچہ آپریشن سے پہلے کارڈیک اریسٹ (حرکت قلب کا بند ہونا) میں چلا گیا تھا لیکن ڈاکٹروں نے اس پیچیدہ ترین صورت حال میں دل کی پیوند کاری کر کے بچے کو معجزاتی طور پر بچا لیا ہے۔

بچے کے والدین نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ پیوند کاری کے آپریشن سے پہلے انھوں نے اپنے بچے کے چہرے پر موت کے آثار دیکھے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ لنکن کا دل صحیح جگہ پر نہیں تھا جس کے نتیجے میں جسم میں خون کی گردش متاثر ہو رہی تھی اور دل سے خون کی پمپنگ جاری رکھنے کے لیے اسے کئی آپریشنوں کی ضرورت تھی۔

تاہم دل کے کئی آپریشن کرانے کے بعد بھی اس کا دل مناسب طریقے سے کام نہیں کر رہا تھا اور ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اسے دل کی پیوند کاری کی ضرورت ہے۔

سیٹل چلڈرن اسپتال کے ہارٹ ٹرانسپلانٹیشن کے سرجیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیکل میک میلن نے کہا کہ ان کا خیال تھا لنکن کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔

وہ شدید بیمار اور کمزور ہوتا جا رہا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ وہ موت کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور اسی وقت ہمیں ایک دل دستیاب ہو گیا۔

بچے کے والدین مینڈی اور روب سی نے کہا کہ جب ہمیں عطیہ شدہ دل کی اطلاع ملی اس کے ٹھیک چار دن بعد لنکن کارڈیک اریسٹ میں چلا گیا ڈاکٹروں نے بڑی مشکل سے اس کی جان بچا لی تھی لیکن وہ خطرے سے باہر نہیں تھا۔

اور جب اسے پیوند کاری کے لیے آپریشن کے کمرے میں لایا گیا تو اس کے دل کی دھڑکنیں ایک بار بھر سے تھم گئیں اور وہ دوسری مرتبہ کارڈیک اریسٹ میں چلا گیا۔

ڈاکٹر میک میلن نے کہا کہ قابل ذکر بات یہ تھی کہ آپریشن کے دوران جب بچے کی حرکت قلب بند ہوتی تو ہم اسے فوری طور پر ہارٹ بائی پاس کی مشین پر ڈالنے کے قابل تھے ورنہ اس طریقہ کار کے لیے دو گھنٹے بھی لگ سکتے تھے لیکن ہم نے 12 منٹ میں ایسا کیا اور اسے سی پی آر دینا شروع کر دیا۔

انھوں نے کہا لنکن کے آپریشن میں کئی گھنٹے لگ گئے لیکن اس آپریشن کے فوری طور پر نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر میک میلن اور بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ اب لنکن کا چہرا ناقابل یقین حد تک پہلے سے مختلف ہے۔ اس کے چہرے کا رنگ گلابی اور کِھلا کِھلا ہے۔

وہ سونے کے بعد زیادہ توانائی کے ساتھ جاگتا ہے اور پہلے کی طرح ہر آدھے گھنٹے میں سوتا نہیں ہے اور بالکل بھی تھکتا نہیں ہے۔

لنکن ابھی اسپتال میں ہے جبکہ اس کے ڈاکٹر سرجن میک میلن کو امید ہے کہ لنکن چند مہینوں میں اسپتال سے فارغ کر دیا جائے گا۔

بچے کے والدین روب اور مینڈی کا کہنا ہے کہ وہ بے صبری کے ساتھ اپنے بچے کو گھر لے جانے کے منتظر ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی اس کہانی کی تشہیر کی جائے تاکہ ان کی طرح کے حالات میں مبتلا والدین کو امید کی کرن دکھائی جا سکے۔

XS
SM
MD
LG